یروشلم: اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل امریکا کی حمایت کے ساتھ ایران کے خلاف اپنا مشن مکمل کرے گا،گزشتہ 16 ماہ میں اسرائیل نے ایران کے نیٹ ورک پر زبردست ضرب لگائی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتےہوئے کہاکہ “امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مضبوط قیادت میں ایران  کو تباہ کرنے کے مشن کو مکمل کریں گے۔”

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ایران کے خطرے کا سامنا کرنے میں اسرائیل اور امریکا کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔”

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے ہر حال میں روکے گا، ایران کبھی بھی جوہری طاقت نہیں بن سکتا کیونکہ جوہری ایران اپنے خلاف کسی بھی دباؤ یا کارروائی سے خود کو محفوظ تصور کرے گا اور ہم یہ ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔

خیال رہےکہ  7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیل غزہ میں ایران فلسطینی عسکریت پسند گروہ کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، لبنان میں بھی ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے ساتھ بھی کشیدگیاں جاری ہیں، اس کے علاوہ یمن اور عراق میں موجود ایران کے حامی فلسطینی کاز کے ساتھ اظہار یکجہتی کر تے ہوئے گروہ اسرائیل کے خلاف حملے کر رہے ہیں۔

واضح  رہےکہ غزہ جنگ کے آغاز کے بعد ایران اور اسرائیل پہلی مرتبہ براہ راست فوجی تصادم میں ملوث ہوئے،???? یکم اکتوبر 2023 کو ایران نے اسرائیل پر میزائل حملہ کیا، جس کے جواب میں 26 اکتوبر کو اسرائیل نے ایران کے فوجی مقامات پر فضائی حملے کیے، جس میں ایرانی فوج کے 4 اہلکار شہید ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران کے

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان