سندھ حکومت 61 سال سے کرپشن میں مصروف، لسانی فسادات کیلئے سٹیج سجایا جا رہا: فاروق ستار
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ سندھ حکومت 16 سالوں سے حکمرانی کی آڑ میں کرپشن کر رہی ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنما ایم کیو ایم ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا سندھ حکومت کا ظلم اور نا انصافی کا سلسلہ جاری ہے، کراچی میں پہلے ٹرانسپورٹ مافیا ہوتا تھا، اب ڈمپر مافیا گھوم رہا ہے، سازش کے تحت ڈمپر مافیا کو آزادی دی گئی ہے۔ فاروق ستار نے کہا آج پھر مہاجر اور پختونوں کو لڑانے کی سازش کی جا رہی ہے، ایم کیو ایم صبر کرنے کی تلقین نہیں کرتی تو شہر میں آگ لگ چکی ہوتی۔ فاروق ستار نے کہا کہ ڈمپر جلانے کے پیچھے نہ آفاق ہیں نہ ایم کیو ایم، ہم عوام کی کیفیت بیان کررہے ہیں۔ شہر میں ڈمپر جلانے کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا، اب چاہے تو اس بیان پر مجھے بھی گرفتار کرلیں، شہر میں لسانی فسادات کیلئے ایک بار پھر سٹیج سجایا جارہا ہے۔ رینجرز کو ان واقعات کی پیشگی روک تھام کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے، یہاں حالات کسی وقت بھی ایٹم بم کی طرح پھٹ سکتے ہیں، 100 افراد کی ہلاکت کے باوجود وزیر اعلیٰ یا کسی اعلیٰ قیادت کی جانب سے کوئی ہمدردی کا بیان نہیں آیا۔ شہر کی صورتحال پر حکومت کو فوراً تلاش حل کرنا ہوگا ورنہ 85 سے زیادہ بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کی پریس کانفرنس پر رد عمل دیتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا ڈاکٹر فاروق ستار کی آج کی کانفرنس زہریلی سوچ کا مربہ ہے، کراچی کے عوام ایم کیو ایم کی نفرت اور تقسیم کی سیاست کو رد کر چکے ہیں، ایم کیو ایم کی تعصب، نفرت اور بدبودار سیاست کا جنازہ نکل چکا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار پہلے یہ بتائیں کہ اقتدار میں ہوتے ہوئے کراچی کے لیے سوائے تباہی اور لسانی سیاست کے کیا کیا؟۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ کراچی کے عوام نے بوری بند لاشوں، بھتہ خوری اور نفرت کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا، سندھ حکومت نے کراچی میں ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے ہیں، کراچی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ترقی اور خوشحالی کی جانب رواں دواں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فاروق ستار نے کہا ڈاکٹر فاروق ستار ایم کیو ایم سندھ حکومت کے لیے ایم کی
پڑھیں:
وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مکانات کی مسماری پر میرواعظ عمر فاروق کا شدید رنج
مولوی محمد عمر فاروق نے کہا کہ ہر انسانی جان کا ضیاع غلط اور ناقابلِ قبول ہے لیکن کسی ایک شخص کے پُرتشدد عمل کو سب کیلئے اجتماعی سزا کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ میرواعظِ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ چند دنوں کے دوران پورے کشمیر میں نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، پوچھ گچھ اور ہراسانی پر شدید تشویش اور رنج و اضطراب کا اظہار کیا۔ دو ہزار سے زائد نوجوانوں کو مبینہ طور پر "اوور گراؤنڈ ورکرز" یا او جی ڈبیلو ہونے کے الزام میں اٹھایا گیا ہے۔ مشتبہ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ایک پولیس اہلکار کے قتل کے بعد اٹھائے گئے ان اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عسکریت پسندی کے خاتمے کے دعوؤں کے باوجود اس طرح کا واقعہ پیش آنا باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسانی جان کا ضیاع غلط اور ناقابلِ قبول ہے، لیکن کسی ایک شخص کے پُرتشدد عمل کو سب کے لئے اجتماعی سزا کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اس قتل کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیئے، لیکن بے گناہ نوجوانوں اور ان کے اہلِ خانہ کو قربانی کا بکرا بنا کر تکلیف میں مبتلا نہیں کیا جانا چاہیئے۔
مشتبہ عسکریت پسندوں کے مکانات منہدم کرکے ان کے اہلِ خانہ کو بے گھر کرنے کی اطلاعات بھی ایک اور ماورائے عدالت اور غیر منصفانہ اقدام ہے، ایسے اقدامات ناراضی اور غصے کو مزید گہرا کرتے ہیں اور بالآخر الٹا نتیجہ دیتے ہیں۔ کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز اور صحافی عرفان معراج کی برسوں کی قید کے بعد ضمانت پر رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے میرواعظ نے امید ظاہر کی کہ ان کی کشمیر واپسی پر عائد پابندیوں پر بھی نظرثانی کی جائے گی تاکہ وہ جلد سرینگر میں اپنے گھروں کو واپس آکر اپنے اہلِ خانہ سے مل سکیں۔ انہوں نے دیگر کشمیری قیدیوں کے لئے بھی راحت کی امید ظاہر کی، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ضمانت مل چکی ہے لیکن دوسرے مقدمات میں ملوث کئے جانے کے بعد وہ بدستور قید ہیں، اور وہ بھی جن کی ضمانت کی درخواستیں ابھی زیرِ سماعت ہیں۔
نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ اپنے حقیقی مسائل اور تحفظات کے لئے آواز اٹھانے والے نوجوانوں کو سنا جانا چاہیئے اور ان کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیئے، نہ کہ انہیں پولیس کارروائی اور طاقت کا سامنا کرنا پڑے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ نہتے مظاہرین کو پیلٹ لگنے کی اطلاعات ان تباہ کن اثرات کی دردناک یاد دہانی ہیں جو گزشتہ دہائیوں میں سینکڑوں کشمیری پیلٹ گنوں کے باعث جھیل چکے ہیں، جن سے ان کی آنکھیں اور زندگیاں ہمیشہ کے لیے متاثر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا افسوسناک ہے کہ اب دہلی کے طلبہ کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کا استعمال کسی شکایت یا مسئلے کو حل نہیں کر سکتا، خواہ وہ دہلی میں ہو یا کشمیر میں، مسائل کے حل کا واحد راستہ بات چیت، جوابدہی اور باہمی رابطہ ہے۔