سندو دریا کا پانی بند کیا تو ملکی معیشت بیٹھ جائیگی،قادر مگسی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)نامور ادیبہ اور سرگرم رہنما سحر رضوی نے سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی سے ملاقات کی اور پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ سحر رضوی کا پارٹی میں دوبارہ سرگرم ہونے کا فیصلہ خوشی کا باعث ہے اور امید ہے کہ ماضی کی طرح سحر رضوی سیاست میں بھرپور کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت سندھ کی حالات میں سندھ کے تمام سمجھدار افراد کو قوم اور وطن کی بقا کے لیے سرگرم کردار ادا کرنا چاہیے، ایک طرف سندھ بھوک، بدحالی، بیروزگاری اور بے امنی کا سامنا کر رہا ہے تو دوسری طرف سندھ سے سندھو دریا کا پانی نکالنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ پچھلے چار مہینوں سے پورا سندھ احتجاج کر رہا ہے کیونکہ اگر سندھو دریا پر کینال بنائے گئے تو سندھو میں پانی کی بجائے نمکین پانی آئے گا، سندھ کے پاس کوئی اور آبی وسیلہ نہیں ہے، سندھ کا زیر زمین پانی بالکل کھارا ہے، اس لیے نہ صرف سندھ کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی بلکہ پینے کا پانی بھی نہیں ملے گا۔ سندھو دریا کو بچانے کی جدوجہد اصل میں 6 کروڑ انسانوں کی زندگیاں بچانے کی جدوجہد ہے،سندھ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور سندھ کی معیشت میں سندھو دریا ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،اس لیے اگر سندھو دریا کا پانی بند کیا گیا تو پاکستان کی معیشت مکمل طور پر بیٹھ جائے گی، حکمرانوں کو ہوش میں آنا چاہیے، وہ اپنی ضد اور انا کی وجہ سے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ سندھ کے لوگ سیاسی جدوجہد کے ذریعے ان حکمرانوں کو شکست دیں گے جیسے ماضی میں ایم آر ڈی تحریک سے لے کر وفاق کے قبضے کے خلاف جزائر پر شاندار جدوجہد کر کے حکمرانوں کو شکست دی تھی۔ ایس ٹی پی سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ 24فروری کو لاکھوں لوگ حیدرآباد میں سندھ و دریائے سندھ کے کینالوں کے خلاف تاریخی احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ اس موقع پر ایس ٹی پی کے مرکزی رہنما حیدر شاہانی، ہوت خان گاڑھی، ڈاکٹر احمد نوناری، ڈاکٹر سومار مگریو اور دیگر بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھو دریا کی معیشت سندھ کے کا پانی
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔