مصطفی عامر قتل کیس‘ارمغان 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مصطفی عامر کے اغوا اور قتل سے متعلق کیس میں مرکزی ملزم ارمغان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر سے پیش رفت رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ اس سے قبل سندھ ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کے 10 اور 11 فروری کے احکامات کالعدم قرار دیدیے۔ عدالت نے ملزم ارمغان کا ریمانڈ لینے کے لیے انسداد دہشت گردی عدالت نمبر دو میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ سندھ ہائیکورٹ میں مصطفی عامر کے اغوا اور قتل سے متعلق کیس میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے منتظم جج کی جانب سے ملزم ارمغان کا جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے خلاف محکمہ پراسیکیوشن کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے موقع پر جیل حکام کی جانب سے گرفتار ملزم ارمغان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزم سے استفسار کیاکہ آپ کو مارا تونہیں گیا؟ ملزم کا کہا کہ مجھے بہت مارا گیا ہے۔ سماعت کے دوران سرکاری وکیل کا کہنا تھاکہ ہمیں جسمانی ریمانڈ چاہیے تاکہ تفتیش کرسکیں۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیاکہ لاش ، گاڑی اور اسلحہ برآمد ہوا؟۔ سرکاری وکیل اور تفتیشی افسر کی جانب سے ملزم ارمغان کو 30 روزہ جسمانی ریمانڈ پر دینے کی استدعا کی گئی۔ سرکار ی وکیل اور تفتیشی افسر کی جانب سے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا سنتے ہی ملزم ارمغان کمرہ عدالت میں گر کر بہوش ہوگیا۔ ملزم کو کمرہ عدالت میں بینچ پر لٹا یا گیا اور پولیس کی جانب سے ملزم کو ہوش میں لانے کی کوشش کی گئی۔ملزم کی ہتھکڑیاں بھی کھول دی گئیں جبکہ ملزم کے منہ پر پانی ڈالا گیا تاہم ملزم ہوش میں نہ آیا۔ ملزم کے وکیل کا کہنا تھاکہ ملزم کی حالت ٹھیک نہیں اس کا میڈیکل کرایا جائے۔ عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس میں کہاکہ میڈیکل تو پہلے دن ہی ہوجانا چاہیے تھا، پھر کیوں نہیں کرایا۔ جسمانی ریمانڈ ملنے کے بعد پولیس ملزم کو نیم بے ہوشی کی حالت میں عدالت سے لیکر روانہ ہوئی۔ دوسری جانب ایس ایس پی اے وی سی سی انیل حیدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملزم کے ریمانڈ کے دوران بیانات کی تصدیق کرنے ہے، اب باڈی مل چکی ہے، تمام شواہد ملزم کے سامنے رکھیں گے، ابھی باڈی کی ریکوری اور ڈی این اے میچ کرنا ہے، اگر کسی اور ملزم کے شواہد ملے تو اس پر بھی پیشرفت کریں گے، یہ اچانک نہیں، باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا اقدام تھا،ملزمان منصوبہ بندی کے باعث لاش ٹھکانے لگانے میں کامیاب رہے، حب کی پولیس کو سراہتا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت نے ملزم کے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔