کرم، شہید سیکورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
نماز جنازہ میں اعلیٰ فوجی افسران، شہداء کے اہل خانہ اور بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ قوم کے ان بہادر سپوتوں میں لانس نائک قابل خان، لانس نائک عبد الرحمان، لانس نائیک یاسین، سپاہی ثقلین اور سپاہی دانش شامل ہیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
کرم، بگن واقعہ میں شہید ہونیوالے سیکورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا
کرم، بگن واقعہ میں شہید ہونیوالے سیکورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا
کرم، بگن واقعہ میں شہید ہونیوالے سیکورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا
کرم، بگن واقعہ میں شہید ہونیوالے سیکورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا
کرم، بگن واقعہ میں شہید ہونیوالے سیکورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا
کرم، بگن واقعہ میں شہید ہونیوالے سیکورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا
اسلام ٹائمز۔ ضلع کرم کے علاقے بگن میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے پانچ اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں اعلیٰ فوجی افسران، شہداء کے اہل خانہ اور بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ قوم کے ان بہادر سپوتوں میں لانس نائک قابل خان، لانس نائک عبد الرحمان، لانس نائیک یاسین، سپاہی ثقلین اور سپاہی دانش شامل ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لانس نائک
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔