آرمی چیف عاصم منیر کے ہوتے ہوئے کوئی پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا: آرمی چیف
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
بریڈ فورڈ : گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا کہنا ہے کہ آرمی چیف عاصم منیر کے ہوتے ہوئے کوئی پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔
تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے برطانیہ کے شہر بریڈ فورڈ میں اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ آرمی چیف سید حافظ عاصم منیر کے ہوتے ہوئے کوئی پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔کامران خان ٹیسوری کا کہنا تھا کہ ان کا اصل کمال یہ دیکھیں کہ اندرونی و بیرونی سازشوں کے باوجود آج کسی میں اتنی جرآت نہیں کہ وہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی ایک انچ زمین بھی لے سکے۔انھوں نے کہا کہ پاک فوج اور ایس آئی ایف سی ملکی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی حقیقی سفیر ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: آرمی چیف
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔