ایف بی آر نے سگریٹ سیکٹر میں اربوں روپے کی ٹیکس چوری پکڑ لی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
ایف بی آر نے خفیہ اداروں کی رپورٹ پر نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ مارکر سگریٹ سیکٹر میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی اڑھائی ارب روپے کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی چوری پکڑی لی۔
تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے خفیہ اداروں کی رپورٹ پر چندروز قبل بہاولنگر میں نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ مارکر سگریٹ سیکٹر میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی اڑھائی ارب روپے کی ڈیوٹی ٹیکس چوری اور دس ارب روپے سے زائد مالیت کی نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ قبضے میں لے کر ضبط کیے تھے۔
چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو راشد محمود لنگڑیال کی ہدایت پر چیف کمشنر آرٹی او بہاولپور صاحبزادہ عبدالمتین نے کمشنر آر ٹی او ممتاز احمد، ڈپٹی کمشنر عمران یوسف اور آڈٹ افسر محمد کامران پر مشتمل تشکیل کردہ خصوصی ٹیم نے فیکٹری پر چھاپہ مارا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ سگریٹ فیکٹری سے پکڑے جانے والے 10 ارب روپے سے زائد مالیت کے نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ اور سگریٹ سازی میں استعمال ہونے والے سامان پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں دو ارب 56 کروڑ روپے کی چوری کی جا رہی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ سگریٹ فیکٹری خیبر پختونخوا کی ایک بڑی بااثر شخصیت کی بتائی جاتی ہے مگر ایف بی آر نے کسی قسم کا اثر و رسوخ اور دباؤ خاطر میں لائے بغیر کارروائی کرتے ہوئے قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان سے بچایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔