ایف بی آر نے خفیہ اداروں کی رپورٹ پر نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ مارکر سگریٹ سیکٹر میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی اڑھائی ارب روپے کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی چوری پکڑی لی۔

تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے خفیہ اداروں کی رپورٹ پر چندروز قبل بہاولنگر میں نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ مارکر سگریٹ سیکٹر میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی اڑھائی ارب روپے کی ڈیوٹی ٹیکس چوری اور دس ارب روپے سے زائد مالیت کی نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ قبضے میں لے کر ضبط کیے تھے۔

چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو راشد محمود لنگڑیال کی ہدایت پر چیف کمشنر آرٹی او بہاولپور صاحبزادہ عبدالمتین نے کمشنر آر ٹی او ممتاز احمد، ڈپٹی کمشنر عمران یوسف اور آڈٹ افسر محمد کامران پر مشتمل تشکیل کردہ خصوصی ٹیم نے فیکٹری پر چھاپہ مارا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ سگریٹ فیکٹری سے پکڑے جانے والے 10 ارب روپے سے زائد مالیت کے نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ اور سگریٹ سازی میں استعمال ہونے والے سامان پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں دو ارب 56 کروڑ روپے کی چوری کی جا رہی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ سگریٹ فیکٹری خیبر پختونخوا کی ایک بڑی بااثر شخصیت کی بتائی جاتی ہے مگر ایف بی آر نے کسی قسم کا اثر و رسوخ اور دباؤ خاطر میں لائے بغیر کارروائی کرتے ہوئے قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان سے بچایا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ارب روپے روپے کی

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • ’بیگز کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے کا سامان نکال لیا گیا‘، لکھنؤ ایئرپورٹ پر حجاج کے ساتھ بڑی چوری
  • راولپنڈی: گھر میں لاکھوں روپے کی چوری کا ڈراپ سین، قریبی رشتہ دار ہی ملوث نکلا
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا