UrduPoint:
2026-07-24@15:17:15 GMT

جرمن وفاقی پارلیمانی انتخابات، کیا کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT

جرمن وفاقی پارلیمانی انتخابات، کیا کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 22 فروری 2025ء) یہ ایک مختصر لیکن سخت انتخابی مہم تھی، جس میں اکثر ایک لفظ سامنے آتا رہا، سمت کی تبدیلی۔ انتخابات سے دو ہفتے قبل قدامت پسند جماعتوں سی ڈی یو/ سی ایس یو کی طرف سے چانسلر کے امیدوار فریڈرش میرس نے کہا، ''آپ نے جرمنی میں تین برس تک بائیں بازو کی سیاست کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ اب اسے جاری نہیں رکھ سکتے۔

‘‘

میرس جرمن پارلیمان یا بنڈس ٹاگ میں، ایس پی ڈی اور گرین پارٹی سے مخاطب تھے، جنہوں نے 2021 سے ایف ڈی پی کے ساتھ مل کر حکومت کی۔ نومبر 2024 میں دو بائیں بازو اور ایک معاشی طور پر لبرل پارٹی کا اتحاد بجٹ میں پیسے کی کمی کے معاملے پر مہینوں کے تنازعے کے بعد ٹوٹ گیا تھا۔ اس لیے 23 فروری کو قبل از وقت انتخابات ہو رہے ہیں۔

(جاری ہے)

ایس پی ڈی کے گرنے کا خطرہ

اگرچہ گرین پارٹی کو موجودہ انتخابات میں 2021 کی طرح ہی لوگوں کی حمایت حاصل ہے ، لیکن ایس پی ڈی اور ایف ڈی پی کی حمایت میں کمی ہوئی ہے۔

ایف ڈی پی، پارلیمان میں پہنچنے کے لیے لازمی پانچ فیصد ووٹ حاصل کرنے میں بھی ناکام ہو سکتی ہے، جبکہ ایس پی ڈی کو سخت شکست کا خطرہ ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد کی تاریخ میں ایس پی ڈی کے لیے بنڈس ٹاگ کے انتخابات میں 20 فیصد سے کم کا نتیجہ بدترین ہو گا اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ایس پی ڈی اس قدر سے کوسوں دور ہے۔

چانسلر اولاف شولس گزشتہ 50 سالوں میں سب سے کم مدت کے ساتھ حکومت کے سربراہ ہوں گے اور ایس پی ڈی کے واحد چانسلر ہوں گے جو دوبارہ منتخب نہیں ہوں گے۔

یونین سب سے آگے، اے ایف ڈی دوسرے نمبر پر

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق فریڈرش میرس کے چانسلر بننے کے بہترین امکانات ہیں۔ سی ڈی یو کے چیئرمین سی ڈی یو اور سی ایس یو اتحاد کی قیادت کرتے ہیں، جو 16 سال حکومت میں رہنے کے بعد 2021 میں بنڈس ٹاگ میں سب سے مضبوط اپوزیشن قوت بن گئی۔ انتخابات میں دوسرے نمبر پر دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت اے ایف ڈی ہے جسے 20 فیصد تک ووٹ ملنے کے امکانات ہیں۔

یہ تعداد 2021 کے مقابلے میں دو گنا ہو گی۔

ایس پی ڈی کا ڈرامائی زوال اور اے ایف ڈی کا عروج، یہ کیسے ہوا؟ یونین چانسلر کے امیدوار میرس معیشت کے کریش کا حوالہ دیتے ہیں: ''ہمارے ملک، وفاقی جمہوریہ جرمنی کی معیشت اب یورپی یونین میں سب سے نیچے ہے۔‘‘
50,000 کمپنیاں دیوالیہ ہو چکی ہیں، اور ہر سال تقریبا 100 بلین یورو کا کارپوریٹ سرمایہ بیرون ملک منتقل ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ''ہماری معیشت سکڑ رہی ہے، مسلسل تیسرے سال ہم کساد بازاری کا شکار ہیں۔ جرمنی میں جنگ کے بعد کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘‘

میرس نے کہا کہ شولس اور ان کے وزیر اقتصادیات رابرٹ ہابیک، جو گرین پارٹی کی طرف سے چانسلر کے عہدے کی دوڑ میں شامل ہیں، ''اب حقیقت کو بالکل نہیں سمجھیں گے۔‘‘
فریڈرش میرس کا مزید کہنا تھا، ''کیا آپ جانتے ہیں آپ مجھے کیسے دکھائی دیتے ہیں؟ دو ایسے تنخواہ دار منیجنگ ڈائریکٹرز، جنہوں نے کمپنی کو دیوار سے لگا دیا ہو اور پھر مالکان کے پاس جا کر کہتے ہوں کہ ہم مزید چار سال تک اسی طرح کام جاری رکھنا چاہیں گے۔

‘‘ جنگ، توانائی کا بحران اور افراط زر

اگرچہ میرس نے انتخابی مہم میں ایک حریف کے طور پر ان پر سخت سے سخت حملہ کیے، تاہم چانسلر شولس ظاہری طور پر،حالیہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ جرات مند، خود اعتماد اور لڑاکا دکھائی دیتے تھے، تاہم وہ اکثر اپنی پالیسیوں کا دفاع اور جواز ہی پیش کرتے رہے۔

یہ ان کی حکومت نہیں بلکہ یوکرین پر روس کا حملہ تھا جس کی وجہ سے توانائی کا بحران اور افراط زر پیدا ہوا۔

شولس کے بقول، ''آج تک، معیشت اس کے نتائج سے نبرد آزما ہے۔‘‘ آنے والے برسوں میں امریکہ اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے 'پریشان کن‘ مطالبات کے حوالے سے صورتحال آسان نہیں ہوگی: ''ہوا سامنے کی طرف سے چل رہی ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ آنے والے سالوں میں اس صورتحال بڑی تبدیلی نہیں ہو گی۔‘‘ مائیگریشن، سب سے بڑا معاملہ

انتخابی مہم کے دوران کمزور معیشت ایک بہت زیادہ زیر بحث موضوع رہا۔

تاہم شافن برگ میں ایک ایسے افغان پناہ گزین کی طرف سے مہلک چاقو کے مہلک حملے کے بعد مہاجرت کا موضوع غالب رہا، جس کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہو چکی تھی۔ خاص طور پر جب فریڈرش میرس نے اس حملے کے فوراﹰ بعد اعلان کیا تھا کہ وہ بنڈس ٹاگ میں انتخابات سے قبل پناہ کی پالیسی کو سخت کرنا چاہتے ہیں، اور اگر ضروری ہو تو اے ایف ڈی کے ووٹوں سے بھی۔

جنوری کے آخر میں یونین کی طرف سے پیش کی گئی پہلی تجویز کو پارلیمان میں اکثریت ملی تو اے ایف ڈی کے پارلیمانی سربراہ برنڈ باؤمان نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے: ''اب کچھ نیا شروع ہو رہا ہے، اور ہم اے ایف ڈی کی قوت اس کی قیادت کر رہے ہیں۔‘‘ ان کی پارٹی سی ڈی یو/ سی ایس یو کے ساتھ اتحاد کے لیے تیار ہے۔

انتہائی دائیں بازو کے ساتھ کوئی تعاون نہیں

جرمنی میں سی ڈی یو کی طرف سے اے ایف ڈی کے ساتھ مل کر بنڈس ٹاگ میں قانون سازی کی کوشش کے بعد ملک بھر میں لاکھوں شہریوں نے مظاہرے کیے اور چانسلر شولس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ''یہ غیر اہم نہیں ہے کہ آپ انتہائی دائیں بازو کے ساتھ کام کرتے ہیں یا نہیں۔ جرمنی میں نہیں!‘‘ شہریوں کو اس بات پر یقین نہیں کہ یونین اتحاد بنڈس ٹاگ انتخابات کے بعد اے ایف ڈی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔

اس کے بعد آنے والے دنوں اور ہفتوں میں میرس نے اے ایف ڈی کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون سے انکار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور کہا کہ دائیں بازو کے انتہا پسندوں کا مقصد سی ڈی یو اور سی ایس یو کو تباہ کرنا ہے اور یونین کسی بھی صورت میں اے ایف ڈی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔

کون کس کے ساتھ اتحاد بنا سکتا ہے؟

لیکن یونین اکیلے حکومت کرنے کے قابل نہیں ہو گی، اسے بنڈس ٹاگ انتخابات کے بعد کم از کم ایک اتحادی شراکت دار کی ضرورت ہو گی۔

جتنی زیادہ پارٹیاں بنڈس ٹاگ میں داخل ہوں گی، اکثریت بنانا اور اس طرح حکومت بنانا اتنا ہی مشکل ہو جائے گا۔

اگر ایف ڈی پی کامیابی حاصل کر لیتی ہےاسے حکومت سازی کے لیے ممکنہ طور پر تین جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی ضرورت پڑے گی۔ چونکہ ایف ڈی پی نے پارٹی کانگریس کی قرارداد کے ذریعے گرین پارٹی کے ساتھ نئے سرے سے اتحاد کو مسترد کر دیا ہے، لہٰذا صرف سی ڈی یو / سی ایس یو ، ایس پی ڈی اور ایف ڈی پی کے اتحاد کا امکان باقی رہے گا۔

اگر بنڈس ٹاگ میں کم پارٹیاں ہیں تو یہ ممکنہ طور پر یونین اور ایس پی ڈی یا یونین اور گرینز ہو سکتی ہیں۔ اے ایف ڈی الگ تھلگ ہے

اے ایف ڈی کی طرف سے چانسلر امیدوار ایلیس وائیڈل کا کہنا ہے کہ اس طرح کا اتحاد سے صرف گزشتہ پالیسی کو ہی جاری رکھنا ہی ممکن ہو گا۔ ان کے بقول اے ایف ڈی اسے نہیں روکے گی تاہم سیاسی ''تبدیلی‘‘ آئے گی مگر صرف ''غیر ضروری تاخیر‘‘ ہو گی۔

اے ایف ڈی کے ساتھ ووٹنگ کے معاملے کے بعد، یونین کے مقابلے میں ایس پی ڈی اور گرین کے مابین تعلقات زیادہ بہترین نہیں ہیں۔ آخر میں اتحاد یقینی طور پر اس بات پر منحصر ہو گا کہ متعلقہ جماعتیں اپنے کتنے سیاسی نظریات کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔

انتخابی مہم میں موسمیاتی پالیسی شاید ہی کوئی مسئلہ ہو

ایس پی ڈی سماجی پالیسی کو اولیت دے گی، گرین پارٹی آب و ہوا کے تحفظ کو۔

گرین پارٹی کی طرف سے چانسلر کے امیدوار رابرٹ ہاییک نے خبردار کیا، ''اگر جرمنی 23 فروری کو ایک ایسی حکومت منتخب کرتا ہے جو یہ اعلان کرے کہ وہ آب و ہوا کے تحفظ کے حوالے سے اپنے اہداف کو پورا نہیں کرنا چاہتی تو اس کا مطلب ہے کہ یورپ اپنے ماحولیاتی تحفظ کے اہداف کو پورا نہیں کرنا چاہے گا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ''اس کے بعد عالمی آب و ہوا کا تحفظ ختم ہو جائے گا۔

کوئی چانسلر، کوئی ماحولیاتی تحفظ کا وزیر یا کوئی کمشنر، بھارت، انڈونیشیا یا چین جا کر یہ نہیں کہہ سکے گا کہ دوستو، کوئلہ کم جلائیں اور زیادہ قابل تجدید توانائی استمعال کریں۔‘‘

فریڈرش میرس جانتے ہیں کہ مذاکرات آسان نہیں ہو سکتے۔ تاہم، بنڈس ٹاگ کے انتخابات کے بعد، جرمنی کے مسائل کو حل کرنا ایک ''سیاسی ذمہ داری‘‘ ہے۔

میرس کے بقول یہ اے ایف ڈی کی افزائش گاہ کو ختم کرنے کے ''آخری مواقع میں سے ایک‘‘ ہے۔ میرس کے مطابق، ''اگر یہ کامیاب نہیں ہوتی، تو ہمیں صرف 20 فیصد دائیں بازو کی عوامیت پسندی کا سامنا نہیں ہو گا۔‘‘

میرس کے بقول، ''پھر ایک دن دائیں بازو کے عوامیت پسندوں کے پاس بنڈس ٹاگ میں نہ صرف ایک بلاکنگ اقلیت ہو گی جو آئینی تبدیلیوں کی اجازت نہیں دیتی، اس کے بعد وہ اکثریت کے قریب آسکتے ہیں۔‘‘

اگلے متوقع چانسلر فریڈرش میرس اسے ایس پی ڈی، گرینز اور ایف ڈی پی کی ایک ذمہ داری قرار دیتے ہیں: ''یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس سے آپ بچ نہیں سکتے اور ہم اسے نبھائیں گے۔‘‘

زابینے کنکارٹس (ا ب ا/ا ا)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی طرف سے چانسلر دائیں بازو کے کے ساتھ اتحاد ایس پی ڈی اور بنڈس ٹاگ میں فریڈرش میرس گرین پارٹی چانسلر کے سی ایس یو ایف ڈی پی سی ڈی یو کے بقول نہیں ہو میرس کے کے بعد کے لیے

پڑھیں:

انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ اسلام کی دعوت اور پیغام کو مخاطب کی زبان میں اس کی ذہنی سطح اور نفسیات کے مطابق پیش کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کے قریشی سردار جب جناب رسول اللہؐ کی دعوت توحید کے اثرات سے پریشان ہو کر جرگے کی صورت میں آنحضرتؐ کے پاس آئے اور پوچھا کہ آخر آپؐ کی دعوت کا مقصد کیا ہے اور آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ تو رسول اکرمؐ نے ان کے مزاج و نفسیات اور ذہنی سطح کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جواب دیا کہ ’’میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ اگر تم اسے قبول کر لو تو عرب و عجم تمہارے تابع ہوں گے۔‘‘ جناب نبی اکرمؐ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ غلبہ، قوت اور اقتدار کے سوا کسی اور زبان کو نہیں سمجھتے اس لیے آپؐ نے انہی کی زبان میں دعوت اسلام کے نتائج و فوائد سے انہیں آگاہ کیا۔ اور یہ بات خلاف واقعہ بھی نہ تھی اس لیے کہ اسلام کی دعوت کو قبول کرنے کے بے شمار نتائج و منافع میں سے ایک منفعت یہ بھی تھی۔ چونکہ سوال کرنے والوں کے ہاں اس منفعت کی اہمیت زیادہ تھی اس لیے آنحضرتؐ نے اسی کا حوالہ دے کر ان کے سوال کا جواب مرحمت فرمایا۔اس پس منظر میں آج کے دور میں دعوتِ اسلام کی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیا جائے اور جناب رسالت مآبؐ کی سیرت طیبہ کو نسل انسانی کے سامنے پیش کرنے کے لیے ترجیحات پر غور کیا جائے تو ضروری معلوم ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کے بارے میں قرآن کریم کی تعلیمات اور رسول اکرمؐ کے ارشادات و احکام کو زیادہ اہمیت کے ساتھ منظر عام پر لایا جائے۔ اور انسانی معاشرہ کو بتایا جائے کہ انسانی حقوق کے تعین اور تحفظ کا جو معیار اور دائرہ کار اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر نے کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال قبل دنیا کے سامنے پیش کیا تھا، انسانی عقل تدریج و ترقی کے تمام مراحل طے کرنے اور مختلف نظام ہائے زندگی کا تجربہ کرنے کے باوجود اس کا کوئی متبادل سامنے نہیں لا سکی، اور انسانی معاشرہ ایک بار پھر پریشانی اور اضطراب کے عالم میں اپنے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے کسی مسیحا کے انتظار میں ہے۔
آج کی دنیا میں ’’انسانی حقوق‘‘ کی زبان سب سے زیادہ توجہ کے ساتھ سنی جانے والی زبان ہے، جبکہ ورلڈ میڈیا اور لابیوں نے اسے صرف زبان کی حد تک نہیں رہنے دیا بلکہ وقت کا موثر ترین ہتھیار بنا دیا ہے جو عالم اسلام اور تیسری دنیا کی اقوام کے خلاف مغرب کے ہاتھوں میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے۔ اور مغرب جسے چاہتا ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور جنیوا کنونشن کی قراردادوں کے شکنجے میں جکڑ کر انسانی حقوق کی چھری کے ساتھ ذبح کر دیتا ہے۔ مغرب انسانی حقوق کے حوالہ سے جتنے بلنگ بانگ دعوے کر لے، مگر انسانی حقوق اور فری سوسائٹی کے مغربی تصور پر مبنی سولائزیشن نے نتائج و ثمرات کے لحاظ سے آج جو روپ دھار لیا ہے اس نے خود مغربی دانش وروں کو حیران و ششدر کر دیا ہے اور مغربی معاشرہ میں جنسی انارکی اور فیملی سسٹم کی تباہی نے گورباچوف جیسے مدبر کو یہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم نے عورت کو گھر سے نکال کر غلطی کی ہے اور اب اسے گھر واپس لے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔دراصل مغرب حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے اور ان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حقوق اور فرائض کو نہ صرف یکجا ذکر کیا بلکہ ان کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کر دیا جو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح انسانی زندگی کا یکساں بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اسے لے کر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں گڈمڈ کر دیا اور ان کے درمیان کوئی خط امتیاز قائم نہ رہنے دیا جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ ذہنی انتشار اور فکری انارکی کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ مثلاً اقتدار اور حکومت کو نبی اکرمؐ نے فرائض اور ذمہ داریوں میں شمار کیا ہے اور قدم قدم پر اس ذمہ داری کی نزاکت اور سنگینی سے خبردار کیا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ حکمرانوں میں احساس ذمہ داری اور خداخوفی کی صورت میں ظاہر ہوا اور لوگ اقتدار کی دوڑ میں شریک ہونے کی بجائے اس سے بچنے میں عافیت محسوس کرنے لگے۔ مگر مغرب نے اسے حقوق کی فہرست میں رکھ دیا اور اس حق کو حاصل کرنے کے لیے جو دوڑ لگتی ہے اس کے فوائد و نقصانات کا تناسب ہر ذی شعور پر واضح ہے۔ محنت، مزدوری اور ملازمت کے ذریعے روزی کمانا اور اہل خانہ کی کفالت کرنا رسول اکرمؐ کی تعلیمات کی رو سے فرائض کا حصہ ہے اور ڈیوٹی ہے جو گھر کے سربراہ پر عائد ہوتی ہے۔ مگر مغرب نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بے شمار افراد کے قتل ہوجانے کے باعث پیدا ہونے والے افرادی قوت کے خلاء کو پر کرنے کے لیے عورت کو گھر سے باہر لانے کی ضرورت محسوس کی تو ملازمت اور محنت و مزدور ی کی ڈیوٹی پر ’’حقوق‘‘ کا خوشنما لیبل چسپاں کر کے اس غریب کو ورغلا لیا۔ اور وہ ’’عقل کی پوری‘‘ بچہ جننے اور اس کی پرورش کرنے کی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ اسے کما کر کھلانے کی ڈیوٹی میں بھی شامل ہو کر خوش ہونے لگی کہ اب میں مردوں کے شانہ بشانہ ’’مساوی حقوق‘‘ سے بہرہ ور ہو گئی ہوں۔
(جاری ہے)

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق