عمران خان مزید 10 ماہ رہا ہوتے نظر نہیں آ رہے:فیصل واوڈا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم وبانی چیئرمین عمران خان مزید 10 ماہ رہا ہوتے نظر نہیں آ رہے ۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں ریاست سے بڑا کوئی نہیں ہوتا، اسٹیبلشمنٹ کا فوکس بانی پی ٹی آئی نہیں پاکستان ہے۔
عمران خان بھی اسی نرسری سے آئے ہیں۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ سیاستدان اندر پاؤں اور باہر گریبان پکڑتے ہیں، آٹھ سے دس مہینے بانی جیل سے باہر نظر نہیں آ رہے، پی ٹی آئی سمجھوتہ کر کے بیٹھی ہے، حکومتیں آئیں یا جائیں اہم پاکستان ہے۔
کرکٹ کی کارکردگی کے سوال پر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ہماری کرکٹ ٹیم اشتہارات میں چھکے لگاتی اورگراؤنڈ میں انہیں گیند نظر نہیں آتی، اسی طرح جمہوریت بھی اشتہارات میں نظر آتی ہے، اصلیت میں سیاستدانوں کو بھی بال نظر نہیں آتی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب لوگ ڈی ایچ اے میں رہنا پسند کرتے ہیں، اس حمام میں سارے ننگے ہیں، سیاستدان بے ایمان، چور اور ڈکٹیٹروں کی طرح پارٹیاں چلاتے ہیں۔
خلیج بنگال میں زلزلے کے جھٹکوں سے زمین لرز اٹھی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: فیصل واوڈا کا نظر نہیں ا
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔