اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کو صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے جلد قانونی سازی مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیس کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے ریمارکس دیے کہ آئین کے تحت الیکشن کمیشن وفاق اور صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا پابند ہے، بروقت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد صوبوں کی ذمہ داری ہے تاہم بدقسمتی ہے کہ کوئی بھی صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار نہیں ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم جب بھی بلدیاتی الیکشن کی تیاری کرتے ہیں صوبائی حکومتیں قوانین میں تبدیلیاں کردیتی ہیں، جس سے الیکشن کمیشن کو سارا کام دوبارہ شروع کرنا پڑتا ہے، صوبائی حکومتوں نے مختلف اوقات میں 5 مرتبہ بلدیاتی الیکشن قوانین میں ترامیم کیں۔
انہوں نے ہدایت کی کہ پنجاب حکومت قانون سازی کا عمل جلد مکمل کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا فوری انعقاد یقینی بنایا جاسکے، 3 صوبوں، کنٹونمنٹس میں انتہائی جہدوجہد کے بعد بلدیاتی انتخابات کروانے میں کامیاب ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی حکومت کا فوری طور پر گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی حکومت کا 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ 
  • پی ڈی ایم اے پنجاب کا شدید بارشوں کا الرٹ، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن