آئی پی پیز کا جلد ریلیف ملنا شروع ہو جائے گا :سیکرٹری پاور
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پاور کے اجلاس میں سیکرٹری پاور نے کہا کہ آئی پی پیز پر مذاکرات میں کوئی دباونہیں تھا، آئی پی پیز کی طرف سے معاہدوں کی خلاف ورزی دکھائی گئی۔
روز نامہ جنگ کے مطابق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آئی پی پیز سے معاہدوں کا ابھی تک ریلیف کیوں نہیں آرہا؟ جس پر سیکرٹری پاور نے کہا کہ ابھی تو دو ماہ ہوئے ہیں ان کا ریلیف آنا شروع ہو جائے گا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کیا آئی پی پیز پر دباوکی بات درست ہے، سیکرٹری پاور نے کہا کہ آئی پی پیز پر مذاکرات میں کوئی دباونہیں تھا، ہم نے سب آئی پی پیز کو بلایا، آئی پی پیز کو بتایا کہ بات چیت سے معاملات حل کرلیں یا پھر فارنزک آڈٹ ہوگا۔
سیکرٹری پاور نے کہا کہ ایک دو آئی پی پیز نے معاملات لندن ثالثی عدالت میں جا کر حل کرنے کی بات کی، حکومت نے ثالثی عدالت جانے سے متعلق اتفاق نہیں کیا، اسی معاملے پر آج وزیر پاور کی برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوب میں ایک ہزار میگاواٹ تک بیٹری سٹوریج منصوبہ لگائیں گے، منصوبے کا مقصد ونڈ انرجی کی سٹوریج سے گرڈ کو استحکام دینا ہے، منصوبے کیلئے ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک سے بات ہو رہی ہے، اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 50 کروڑ ڈالر ہے۔
6 ماہ قبل گووندا اور سنیتا میں اختلافات ہوگئے تھے ، فیملی وکیل نے حقیقت بتا دی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: آئی پی پیز
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔