زرعی ٹیوب ویل سمیت بجلی صارفین کیلئے ریلیف کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی کمی کا فائدہ اب زرعی ٹیوب ویل صارفین اور 300یونٹ استعمال کرنے والے بجلی صارفین کو بھی ملے گا.جون 2015سے 300یونٹ والے صارفین کو ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں کمی کا فائدہ روک دیا گیا تھا،جبکہ دسمبر 2010سے زرعی ٹیوب ویل صارفین کو ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں کمی ختم کردی گئی تھی۔
فیول کاسٹ میں کمی کو زرعی ٹیوب ویل اور 300یونٹ تک استعمال کرنے والے بجلی صارفین کو دینے سے ان کے ماہانہ بلوں میں مزید کمی آئے گی۔پاور ڈویژن نے نیپرا کو دونوں صارفین کو فائدہ پہنچانے کے لیے خط لکھ دیا۔
چمگادڑ کھانے کے بعد کانگو میں پراسرار بیماری پھیل گئی، 53 افراد ہلاک
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: زرعی ٹیوب ویل صارفین کو
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔