امریکہ، فحش اور غیر اخلاقی گفتگو پر انٹیلیجنس ایجنسیوں کے 100 سے زائد کارکن برطرف
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
تلسی گبارڈ نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گبارڈ میں نے آج حکم جاری کیا ہے کہ ان سب کو برطرف کر دیا جائے گا اور ان کی سکیورٹی کلیئرنس چھین لی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی نیشنل انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے کہا کہ مختلف انٹیلیجنس ایجنسیوں کے 100 سے زائد کارکنوں کو ایک محفوظ سرکاری چیٹ پر نامناسب گفتگو کرنے کے الزام میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس، ٹلسی گیبرڈ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں بتایا کہ یہ اہلکار ایک محفوظ چیٹ سسٹم کو، جو قومی سلامتی کے لیے مخصوص تھا، سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے فحش اور غیر اخلاقی گفتگو کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کی یہ حرکت بنیادی پیشہ ورانہ اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ تلسی گبارڈ نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گبارڈ میں نے آج حکم جاری کیا ہے کہ ان سب کو برطرف کر دیا جائے گا اور ان کی سکیورٹی کلیئرنس چھین لی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم انٹیلیجنس ایجنسیوں میں سخت صفائی مہم جاری رکھیں گے۔ ڈائریکٹر آف نیشنلانٹیلی جنس دفتر کے ایک ترجمان نے کہا کہ گبارڈ نے ایک میمو جاری کیا ہے جس میں تمام انٹیلیجنس ایجنسیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے ملازمین کو تلاش کریں جنہوں نے جمعہ تک نامناسب چیٹس میں حصہ لیا تھا۔علاوہ ازیں حالیہ ہفتوں میں سابق امریکی صدر بائیڈن کی انتظامیہ کے دور میں شروع کی گئی تنوع (diversity) پالیسی پر کام کرنے والے عملے کو بھی برطرف کرنے کا عمل جاری تھا، لیکن ایک وفاقی جج نے اس فیصلے پر عارضی طور پر روک لگا دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انٹیلیجنس ایجنسیوں کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔