سپریم کورٹ: کورٹ فیس میں اضافہ واپس
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس منعقد ہوا جس میں سپریم کورٹ کے 4 ججز شریک نہیں ہوئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ان ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر کوئی بات چیت نہیں کی گئی۔
فل کورٹ اجلاس میں عدالتی فیسوں میں حالیہ اضافے پر غور کیا گیا اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے پیش کی گئی تجویز منظور کر لی گئی، جس کے تحت عدالتی فیسیں سپریم کورٹ رولز 1980 کے مطابق ہی وصول کی جائیں گی۔ اجلاس میں اکثریتی فیصلہ اس حوالے سے سامنے آیا۔
مزید پڑھیں: 4 ججوں نے سپریم کورٹ رولز کی سرکولیشن کے ذریعے منظوری غیر قانونی قرار دے دی
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ رولز 2025 میں عدالتی فیسوں میں اضافے پر سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ فل کورٹ کے ایجنڈے پر آیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مزید تجاویز ججز سے طلب کی جائیں گی، جو بعد ازاں ایک 4 رکنی کمیٹی کو بھیجی جائیں گی۔ کمیٹی کو تجاویز موصول ہونے کے بعد دوبارہ فل کورٹ اجلاس طلب کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اضافہ واپس سپریم کورٹ کورٹ فیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اضافہ واپس سپریم کورٹ کورٹ فیس سپریم کورٹ اجلاس میں فل کورٹ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔