مصطفیٰ عامر قتل کیس میں اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
مصطفیٰ عامر قتل کیس کے گواہ غلام مصطفیٰ نے ملزم ارمغان اور شیراز کو شناخت کر لیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ دورانِ سماعت گواہ غلام مصطفیٰ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ جو واقعہ پیش آیا ہم نے پولیس کو سچ سچ بتا دیا تھا، پولیس اسی رات ہمیں بنگلے پر لے کر گئی تھی۔ گواہ کے مطابق ہم نے پولیس کو خون کے نشانات دکھائے، پولیس ہمیں اس رات تھانے لے گئی اور موبائل نمبر لے کر چھوڑ دیا گیا تھا، پھر بعد میں پولیس نے ہمیں فون کر کے بلایا تھا۔ عدالت نے گواہ سے استفسار کیا کہ دیکھو ملزمان یہاں موجود ہیں۔ اس موقع پر گواہ نے ملزمان ارمغان اور شیراز کو شناخت کیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت میں گواہ غلام مصطفیٰ کا بیان مکمل کر لیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صرف اوور اسٹے پر دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں، جسٹس محمد آصف نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر پی سی ایل میں نام ڈالنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سفری پابندی کے لیے کسی جرم ، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید ثبوت کا وجود ضروری ہے، بغیر جرم شہری کے بیرونِ ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز نہیں۔
عدالت نے کہا کہ سفری پابندی کا اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ شہری کا نام اس طرح سفری پابندی لسٹ میں رکھنا آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے مطابق وفاقی حکومت نے بتایا کہ خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سے شہری ڈی پورٹ ہوا، وفاقی حکومت کا موقف ہے پالیسی کی تحت شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا، وفاقی حکومت کے مطابق دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔