کابینہ کی تعداد 50 سے تجاوز‘ پیپلز پارٹی نے شمولیت کا فیصلہ نہ کیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
اسلام آباد (عترت جعفری) وفاقی کابینہ میں 12 وفاقی وزراء،9 وزراء مملکت، تین مشیروں اور4 معاونین خصوصی کی شمولیت کے بعد وفاقی کابینہ کی مجموعی تعداد 50 سے تجاوز کر گئی ہے۔ نئے وفاقی وزراء کی شمولیت سے پہلے سے کام کرنے والی کابینہ جو 18 وفاقی وزراء، دو وزرائے مملکت اور ایک مشیر اور چار معاون خصوصی پر مشتمل تھی، پر کام کے بوجھ میں کمی آئے گی۔ بہت سی اہم وزارتیں ہیں جن میں فوڈ سکیورٹی، مذہبی امور، نجکاری شامل ہیں جو دوہرے چارج کی وجہ سے حقیقی قیادت سے محروم تھیں۔ وفاقی کابینہ اب بظاہر مکمل ہو گئی ہے اور اس میں مزید وزراء کی شمولیت کی گنجائش کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔ وفاقی وزرائے مملکت اور معاون خصوصی اور مشیروں کی بھاری تعداد کے پیش نظر ایسا نظر آ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ بات چیت کامیاب نہیں ہو سکی۔ پیپلز پارٹی نے کابینہ سے دور رہنے کا ہی فیصلہ کیا ہے۔ نو تشکیل شدہ کابینہ کے سامنے چیلنجز کا پہاڑ ہے۔ ایک سال میں نجکاری کی رفتار کو نہیں بڑھایا جا سکا۔ پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی۔ جبکہ ڈسکوز کی نجکاری کا بہت بڑا مرحلہ طے کرنے کے لیے موجود ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ اس وقت مذاکرات ماحولیاتی تناظر میں ہو رہے ہیں جبکہ ان کا مشن بھی آنے والا ہے۔ اب تک جو شواہد موجود ہیں ان کے مطابق حکومت بہت سے سٹرکچرل اور پرفارمنس کے بنچ مارکس کو حاصل نہیں کر سکی ہے اور نئے بجٹ کی تیاری بھی شروع ہے اور مشن کے ساتھ مذاکرات میں بجٹ خصوصی موضوع ہو گا۔ بارش کے موجودہ سپیل کی وجہ سے گندم کی بہتر فصل کی توقع بڑھی ہے، تاہم یہ حقیقت موجود ہے کہ گندم کم رقبے پر کاشت ہوئی ہے اور اسے گزشتہ دو ماہ کے دوران خشک سالی کا سامنا رہا ہے۔ فوڈ سکیورٹی کے وفاقی وزیر کو زرعی تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھنا ہو گی۔ وفاقی کابینہ میں بھاری تعداد میں وزراء، وزرائے مملکت، معاونین و مشیروں کی شمولیت اپوزیشن کی نقطہ چینی کا باعث ضرور بنے گی۔ مشیر کی حیثیت سے سابق وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کا نام موجود ہے جن کے بارے میں دو روز قبل یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ وہ جے یو آئی میں شامل ہو رہے ہیں تاہم وہ حکومت کے ساتھ مشیر کے طور پر چلے آئے۔ اس سے قبل علی پرویز ملک اور شزا فاطمہ وزیر مملکت کے طور پر کام کر رہے تھے جن کو وفاقی وزیر کے طور پر ترقی دی گئی ہے ہیں۔ رانا ثناء اللہ خان وزیراعظم کے واحد مشیر تھے جبکہ تین نئے مشیر آئے ہیں، اس طرح مشیروں کی تعداد چار ہو گئی ہے۔ ہارون اختر خان ایک بار پھر معاون خصوصی بن گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وفاقی کابینہ کی شمولیت کے ساتھ گئی ہے ہے اور
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔