سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت الیکشن ہار گئی دھاندلی ہی ان کے پاوں کی بیڑیاں ہیں، رمضان المبارک میں آسانیوں کے بجائے پچاس وزیر بنا دئیے ہیں، امریکہ گورنمنٹ چھوٹی کررہا ہے اور ہم بڑی کررہے ہیں،پی ٹی آئی گرینڈ الائنس بنانے میں ابھی تک ناکام ہے، انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر طبقہ سے یہ حکومت بلیک میل ہو رہی ہے۔ حکومت چل نہیں رہی گھسیٹ رہی ہے۔پی ٹی آئی قیادت حالات سے فائدہ نہیں اٹھا رہی۔سٹریٹ پاور مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کے پاس ہے۔یہ لوگ مائنس فضل الرحمان کرنے چلے ہوئے ہیں۔ موجودہ پی ٹی آئی عہدیداروں کا کوئی سیاسی بیک راونڈ نہیں ہے۔ انتقام کے کلچر کو ختم کریں۔بانی پی ٹی آئی کا باہر آنا تحریک کے ذریعے ممکن ہے۔مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو کہتا ہوں انتقام کا کلچر ختم کریںاسی طرح سیاسی ٹمپریچر نیچے آ سکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا یہ بھی کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا باہر آنا تحریک کے ذریعے ممکن ہے۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو کہتا ہوں انتقام کا کلچر ختم کریں اسی طرح سیاسی ٹمپریچر نیچے آ سکتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 28 مقدمات کا سامنا کر رہا ہوں حالات پہلے اور اب بھی ہمارے لئے خراب ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مل کر موومنٹ چلانے کی اجازت لیں گے اگر ملاقات نہ ہو سکی تو خود ایکشن لیں گے۔ انتقام کے کلچر کو ختم کریں۔واضح رہے کہ اس سے قبل سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کو دو ٹکے کی قرار دیا تھا۔ان کا کہناتھا کہ پی ٹی آئی کی دو ٹکے کی سیاسی کمیٹی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ہونیوالے سلوک پر خاموش رہی تھی۔فواد چودھری نے تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کو دو ٹکے کی قرار دیدیا تھا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئیٹر)پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو ایک دن کیلئے جیل نہیں گئے۔ اب اس سیاسی کمیٹی کو ایک غیر اہم کلرک پر قراردادیں یاد آ گئیں تھیں؟۔ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ سیاسی کمیٹی کے لوگ کروڑوں روپے کی فنڈنگ کھا گئے اور بانی پی ٹی آئی اور کارکنوں کے نام پر ملنے والی رقوم کا حساب نہیں دے رہے تھے۔ جو کروڑوں روپے کے فنڈ کھا گئے اور فنڈنگ کا حساب دینے سے انکاری تھے۔ جن کی اوقات دو ٹکے کی نہیں ان سے فنڈ نگ کا حساب لینا انتہائی اہم تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کی سیاسی کمیٹی بانی پی ٹی آئی تھا کہ

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
  • عمران خان نے قومی حکومت کی حامی بھرلی ،فواد چوہدری کادعویٰ
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام