حکومت الیکشن ہار گئی دھاندلی ہی ان کے پاوٴں کی بیڑیاں ہیں، فواد چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت الیکشن ہار گئی دھاندلی ہی ان کے پاوں کی بیڑیاں ہیں، رمضان المبارک میں آسانیوں کے بجائے پچاس وزیر بنا دئیے ہیں، امریکہ گورنمنٹ چھوٹی کررہا ہے اور ہم بڑی کررہے ہیں،پی ٹی آئی گرینڈ الائنس بنانے میں ابھی تک ناکام ہے، انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر طبقہ سے یہ حکومت بلیک میل ہو رہی ہے۔ حکومت چل نہیں رہی گھسیٹ رہی ہے۔پی ٹی آئی قیادت حالات سے فائدہ نہیں اٹھا رہی۔سٹریٹ پاور مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کے پاس ہے۔یہ لوگ مائنس فضل الرحمان کرنے چلے ہوئے ہیں۔ موجودہ پی ٹی آئی عہدیداروں کا کوئی سیاسی بیک راونڈ نہیں ہے۔ انتقام کے کلچر کو ختم کریں۔بانی پی ٹی آئی کا باہر آنا تحریک کے ذریعے ممکن ہے۔مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو کہتا ہوں انتقام کا کلچر ختم کریںاسی طرح سیاسی ٹمپریچر نیچے آ سکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا یہ بھی کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا باہر آنا تحریک کے ذریعے ممکن ہے۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو کہتا ہوں انتقام کا کلچر ختم کریں اسی طرح سیاسی ٹمپریچر نیچے آ سکتا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 28 مقدمات کا سامنا کر رہا ہوں حالات پہلے اور اب بھی ہمارے لئے خراب ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے مل کر موومنٹ چلانے کی اجازت لیں گے اگر ملاقات نہ ہو سکی تو خود ایکشن لیں گے۔ انتقام کے کلچر کو ختم کریں۔واضح رہے کہ اس سے قبل سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کو دو ٹکے کی قرار دیا تھا۔ان کا کہناتھا کہ پی ٹی آئی کی دو ٹکے کی سیاسی کمیٹی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ہونیوالے سلوک پر خاموش رہی تھی۔فواد چودھری نے تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کو دو ٹکے کی قرار دیدیا تھا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئیٹر)پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو ایک دن کیلئے جیل نہیں گئے۔ اب اس سیاسی کمیٹی کو ایک غیر اہم کلرک پر قراردادیں یاد آ گئیں تھیں؟۔ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ سیاسی کمیٹی کے لوگ کروڑوں روپے کی فنڈنگ کھا گئے اور بانی پی ٹی آئی اور کارکنوں کے نام پر ملنے والی رقوم کا حساب نہیں دے رہے تھے۔ جو کروڑوں روپے کے فنڈ کھا گئے اور فنڈنگ کا حساب دینے سے انکاری تھے۔ جن کی اوقات دو ٹکے کی نہیں ان سے فنڈ نگ کا حساب لینا انتہائی اہم تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی سیاسی کمیٹی بانی پی ٹی آئی تھا کہ
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز