سرگودھا: محکمۂ وائلڈ لائف کی کارروائی، ریچھ بازیاب
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
سوشل میڈیا اسکرین گریب
سرگودھا کے وائلڈ لائف اسکواڈ نے چنیوٹ کے قریب سیلانوالی میں کارروائی کر کے ایک ریچھ کو بازیاب کروا لیا۔
وائلڈ لائف حکام کے مطابق ریچھ کی طبی جانچ اور بحالی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور اسے محفوظ پناہ گاہ منتقل کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔
عدالت نے ریچھ کو اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
ترجمان محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق کارروائی جھال چکیاں کے قریب کی گئی، 3 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
سینٸر صوباٸی وزیر مریم اورنگزیب نے کامیاب آپریشن پر وائلڈ لائف اسکواڈ کو شاباش دی ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن کے تحفظ کے لیے جنگلی حیات کا تحفظ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریچھ کو محفوظ پناہ گاہ منتقل کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔
مریم اورنگزیب کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ میں حکومت کا ساتھ دیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وائلڈ لائف
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔