چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں چوتھی ٹیم کونسی پہنچی؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
کراچی:
چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں چوتھی ٹیم بھی پہنچ گئی اور اسی کے ساتھ لائن اپ بھی مکمل ہوگئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جنوبی افریقا نے بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر چیمپینز ٹرافی 2025کے سیمی فائنل میں جگہ بنالی۔
چیمپئنز ٹرافی میں گروپ اے سے نیوزی لینڈ اور بھارت پہلے ہی سیمی فائنل میں جگہ بنا چکے ہیں، گزشتہ روز افغانستان کے خلاف میچ بارش کی نذر ہونے کے بعد آسٹریلیا نے گروپ چیمپیئن کی حیثیت سے گروپ بی سے سیمی فائنل میں اپنی نشست کنفرم کر لی تھی۔
ہفتہ کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھلے جانے والے ٹرافی کے 11ویں میچ میں انگلینڈ کو 179 رنز پر ڈھیر کرنے کے بعد جنوبی افریقہ نے بہترین رن ریٹ کی بنیاد پر گروپ سیمی فائنل میں جگہ بنائی اور اگر مگر کا چکر ختم ہوا جبکہ افغانستان کی سیمی فائنل میں رسائی کی خواہش دم توڑ گئی۔
جنوبی افریقہ کے خلاف انگلینڈ کی 207 رنز سے کامیابی کی صورت میں افغانستان بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر فائنل فور میں جگہ بنا سکتا تھا۔
دوسری جانب سیمی فائنلز میں حریف ٹیموں کا فیصلہ اتوار کو دبئی میں بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان آخری گروپ میچ کے بعد بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر ہوگا،گروپ بی میں جنوبی افریقہ گروپ چیمپین اور آسٹریلیا دوسرے نمبر پر ہے،
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریٹ کی بنیاد پر سیمی فائنل میں میں جگہ
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔