اے آئی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی اپنی نشست سے اٹھ کر امریکی صدر ٹرمپ کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں، جس کے بعد دونوں صدور کے بیچ ہاتھا پائی شروع ہو جاتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کے درمیان ہونے والی تکرار کے بعد سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان کھڑا ہوگیا۔ اے آئی نے بات ہاتھا پائی تک پہنچائی تو کسی نے زیلنسکی کو بھتیجا اور ٹرمپ کو چچا بنادیا، تنازع کو کراچی حیدرآباد بریانی کا جھگڑا بنادیا گیا۔ تاہم اس ملاقات نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا، میمز اور AI سے تیار کردہ ویڈیوز نے تصادم کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ اے آئی کی جاری کردہ ویڈیو نے تو ڈونلڈ ٹرمپ اور زیلنسکی کی تکرار ہاتھا پائی تک پہنچادی۔

اے آئی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی اپنی نشست سے اٹھ کر امریکی صدر ٹرمپ کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں، جس کے بعد دونوں صدور کے بیچ ہاتھا پائی شروع ہو جاتی ہے، تاہم بعد میں تصدیق ہوئی کہ ویڈیو مصنوعی ذہانت سے شرارت کے طور پر بنائی گئی ہے۔ تو کہیں سوشل میڈیا پر ٹرمپ زیلنسکی تنازع کو حیدرآباد کراچی کے درمیان بریانی کا جھگڑا بنادیا گیا۔ ایک وائرل میم میں ٹرمپ اور زیلنسکی کیلڑائی کو خاندانی جھگڑے میں تبدیل کردی، بھتیجے زیلنسکی جب چچا ٹرمپ سے پیسےمانگنے گئے تو جے ڈی چاچی نے شکرگزاری کا لیکچر دے دیا۔ ایک میم یہ بھی بنی کہ چاند رات پر جب ٹیلر آپ سے کہے کہ بجلی نہیں سوٹ تیار نہیں ہوسکتا تو یہ بات تیسری جنگ عظیم تک پہنچ سکتی ہے۔ ایک اور میم میں ٹرمپ اور جے ڈی وینس کے رویے کو کارٹون کردار کے ردعمل سے تشبیہ دی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر ٹرمپ اور اے آئی کے بعد

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی