لاہور: چور نے مسجد کو بھی نہ بخشا، نمازی کا قیمتی لیپ ٹاپ چرا لیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, March 2025 GMT
لاہور:
مسلم ٹاؤن کے علاقے میں چور نے مسجد سے نمازی کا قیمتی لیپ ٹاپ چرا لیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی جس میں نامعلوم چور کو واردات کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق محسن ناصر نامی شہری نے ایوبیہ مارکیٹ کی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی۔ نماز کی ادائیگی سے قبل اس نے اپنا لیپ ٹاپ صف میں رکھا مگر جیسے ہی وہ عبادت میں مصروف ہوا، ایک نامعلوم چور موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتی لیپ ٹاپ لے کر فرار ہوگیا۔
محسن ناصر کے مطابق چوری ہونے والے لیپ ٹاپ کی مالیت اڑھائی لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے جس میں چور کو لیپ ٹاپ اٹھا کر جاتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لیپ ٹاپ
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔