قلات : خاتون بمبار کا خودکش حملہ، ایک ایف سی اہلکار شہید، 4 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
قلات میں ایف سی کے قافلے پر خودکش دھماکے میں ایک اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوگئے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق خود کش حملہ خاتون نے کیا۔
ڈپٹی کمشنر قلات بلال شبیر کے مطابق قلات کے علاقے مغلزئی کے قریب قومی شاہراہ پر ایف سی کے قافلے پر خاتون خودکش بمبار نے حملہ کردیا۔
ڈپٹی کمشنر قلات نے بتایا کہ دھماکے میں ایک اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوگئے، ونگ کمانڈر محفوظ رہے۔
لیویز حکام کے مطابق دھماکے کے بعد ریسکیو اور سیکیورٹی ٹیمیں جائے وقوعہ پہنچ گئیں، علاقے میں گھیرے میں لے لیا گیا، زخمیوں کو طبی امداد کیلئے قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔
اس سے قبل بلوچستان کے علاقے بارکھان بغاؤ میں آپریشن پر مامور فورسز کیلئے راشن لے جانے والے ٹرک کو مسلح افراد نے نذر آتش کردیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔