آٹھ ماہ میں تجارتی خسارہ 15 ارب 78 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
اسلام آباد:
رواں مالی سال 2024-25کے پہلے8 ماہ (جولائی تا فروری)کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ 6.33 فیصد اضافے کے ساتھ 15 ارب 78 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، گذشتہ ماہ (فروری2025) کے دوران ملکی برآمدات میں 17.35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ (فروری) میں برآمدات کا حجم 2 ارب 43 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا ہے جو جنوری 2025 میں 2 ارب 95 کروڑ ڈالر تھا جبکہ فروری2025 میں درآمدات بھی 9.
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا فروی کے دوران برآمدات میں مجموعی طور پر 8.17 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 22 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، اعدادوشمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے8 ماہ میں تجارتی خسارہ 6.33 فیصد اضافے کے ساتھ 15 ارب 78 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
اس دوران درآمدات میں 7.4 فیصد اضافے کے ساتھ مجموعی حجم 37 ارب 80 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ہے، اس طرح فروری 2024 کے مقابلے میں گزشتہ ماہ برآمدات میں 5.57 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملکی برآمدات فروری 2025 میں ماہانہ 17.4 فیصد اور سالانہ 5.60 فیصد کمی ہوئی، فروری 2025 میں ملکی برآمدات 2 ارب 40 کروڑ ڈالر رہیں۔
رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں تجارتی خسارہ 6.30 فیصد اضافے سے 15.80 ارب ڈالر رہا، رواں مالی سال 8 ماہ میں برآمدات 8.2 فیصد اضافے سے 22.02 ارب ڈالر رہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے 8 ماہ میں درآمدی بل 7.40 فیصد اضافے سے 37.80 ارب ڈالر پر پہنچ گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال تجارتی خسارہ فیصد اضافے پہنچ گیا ارب ڈالر ماہ میں
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔