کیا آپ رمضان میں چست اور توانا رہنا چاہتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
رمضان المبارک صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ روحانی تطہیر، ذہنی نظم و ضبط اور اللہ تعالیٰ سے قربت کا ایک انمول موقع ہے۔ یہ مقدس مہینہ ہمیں اپنی زندگیوں کا جائزہ لینے، اپنی عادات کو بہتر بنانے اور اپنی روح کو پاکیزہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ماہر غذائیات کے مطابق ماہِ صیام خود کو دوبارہ ترتیب دینے اور اپنی روح سے دوبارہ جڑنے کا بہترین وقت ہے۔ یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں ہم اپنی ہر سرگرمی کو شعوری طور پر انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان سے پہلے اپنے جسم کو تیار کرنا بہت ضروری ہے، جس کے لیے لازمی ہے کہ ہم اپنی کھانے کی عادات کو بتدریج تبدیل کریں۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ دن بھر کھانے کے عادی ہیں تو اپنی خوراک کو کم کرنا شروع کر دیں اور اپنے جسم کو روزے کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیں۔ اسی طرح اگر آپ باقاعدگی سے چائے یا کافی پیتے ہیں تو رمضان سے کچھ دن پہلے کیفین کی مقدار کو کم کرنا شروع کر دیں تاکہ آپ پانی کی کمی اور سر درد سے بچ سکیں۔
رمضان المبارک میں غذائی غلطیاں اور ان سے بچاؤ
معالجین کہتے ہیں کہ رمضان المبارک کے مہینے میں خوراک کے انتخاب میں غلطیاں اکثر تھکاوٹ، پانی کی کمی اور دیگر صحت کے مسائل کا باعث بنتی ہیں اور سب سے عام غلطی سحری نہ کرنا ہے۔ سحری دن بھر کی توانائی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اسے چھوڑنے سے کمزوری اور پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ سحری میں فائبر، پروٹین اور صحت مند چکنائیوں سے بھرپور متوازن غذا کھانی چاہیے۔
پانی کی مناسب مقدار بھی بہت ضروری ہے۔ افطار اور سحری کے درمیان خوب پانی پینا چاہیے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق روزے داروں کو پانی کی کمی سے بچنے کے لیے روزے کے دورانیے کے علاوہ کم از کم 10 گلاس پانی پینا چاہیے۔
ایک اور غلطی جو لوگ رمضان میں کرتے ہیں وہ غیر صحت بخش غذاؤں کا زیادہ استعمال ہے۔ عالمی ادارے کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ رمضان میں تلی ہوئی اور زیادہ نمکین غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ زیادہ کھانا اور غیر صحت بخش غذاؤں کا استعمال جسم پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ خوراک کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے، نہ صرف مقدار بلکہ معیار پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
رمضان میں عام طور پر کھائی جانے والی مٹھائیوں میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ چونکہ رمضان میں جسم کو مناسب غذائی اجزا فراہم کرنا بہت ضروری ہے، اس لیے غذائی کمی کا شکار افراد کے لیے روزہ ان کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔
ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ رمضان سے پہلے صحت کا جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ اس سے ہمیں اپنے جسم کی موجودہ حالت اور ضروریات کے بارے میں پتا چلے گا۔ رمضان سے پہلے صحت کی کسی بھی کمی کو دور کرنے سے جسم کو مہینے بھر کی عبادات کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔
غذائیت اور صحت کے بارے میں صحیح نقطہ نظر کے ساتھ رمضان کا مہینہ جسمانی اور ذہنی تجدید کا بہترین موقع بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے اور سوچ سمجھ کر غذا کا انتخاب کرتے ہوئے ہم پورے مہینے میں صحت مند اور توانا رہ سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بہت ضروری ہے پانی کی کمی کہ رمضان جسم کو کے لیے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔