Express News:
2026-06-03@05:44:28 GMT

کیا آپ رمضان میں چست اور توانا رہنا چاہتے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT

رمضان المبارک صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ روحانی تطہیر، ذہنی نظم و ضبط اور اللہ تعالیٰ سے قربت کا ایک انمول موقع ہے۔ یہ مقدس مہینہ ہمیں اپنی زندگیوں کا جائزہ لینے، اپنی عادات کو بہتر بنانے اور اپنی روح کو پاکیزہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

ماہر غذائیات کے مطابق ماہِ صیام خود کو دوبارہ ترتیب دینے اور اپنی روح سے دوبارہ جڑنے کا بہترین وقت ہے۔ یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں ہم اپنی ہر سرگرمی کو شعوری طور پر انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان سے پہلے اپنے جسم کو تیار کرنا بہت ضروری ہے، جس کے لیے لازمی ہے کہ ہم اپنی کھانے کی عادات کو بتدریج تبدیل کریں۔

غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ دن بھر کھانے کے عادی ہیں تو اپنی خوراک کو کم کرنا شروع کر دیں اور اپنے جسم کو روزے کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیں۔ اسی طرح اگر آپ باقاعدگی سے چائے یا کافی پیتے ہیں تو رمضان سے کچھ دن پہلے کیفین کی مقدار کو کم کرنا شروع کر دیں تاکہ آپ پانی کی کمی اور سر درد سے بچ سکیں۔

رمضان المبارک میں غذائی غلطیاں اور ان سے بچاؤ

معالجین کہتے ہیں کہ رمضان المبارک کے مہینے میں خوراک کے انتخاب میں غلطیاں اکثر تھکاوٹ، پانی کی کمی اور دیگر صحت کے مسائل کا باعث بنتی ہیں اور سب سے عام غلطی سحری نہ کرنا ہے۔ سحری دن بھر کی توانائی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اسے چھوڑنے سے کمزوری اور پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ سحری میں فائبر، پروٹین اور صحت مند چکنائیوں سے بھرپور متوازن غذا کھانی چاہیے۔

پانی کی مناسب مقدار بھی بہت ضروری ہے۔ افطار اور سحری کے درمیان خوب پانی پینا چاہیے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق روزے داروں کو پانی کی کمی سے بچنے کے لیے روزے کے دورانیے کے علاوہ کم از کم 10 گلاس پانی پینا چاہیے۔

ایک اور غلطی جو لوگ رمضان میں کرتے ہیں وہ غیر صحت بخش غذاؤں کا زیادہ استعمال ہے۔ عالمی ادارے کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ رمضان میں تلی ہوئی اور زیادہ نمکین غذاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ زیادہ کھانا اور غیر صحت بخش غذاؤں کا استعمال جسم پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ خوراک کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے، نہ صرف مقدار بلکہ معیار پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

رمضان میں عام طور پر کھائی جانے والی مٹھائیوں میں چینی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ چونکہ رمضان میں جسم کو مناسب غذائی اجزا فراہم کرنا بہت ضروری ہے، اس لیے غذائی کمی کا شکار افراد کے لیے روزہ ان کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔

ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ رمضان سے پہلے صحت کا جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ اس سے ہمیں اپنے جسم کی موجودہ حالت اور ضروریات کے بارے میں پتا چلے گا۔ رمضان سے پہلے صحت کی کسی بھی کمی کو دور کرنے سے جسم کو مہینے بھر کی عبادات کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔

غذائیت اور صحت کے بارے میں صحیح نقطہ نظر کے ساتھ رمضان کا مہینہ جسمانی اور ذہنی تجدید کا بہترین موقع بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے اور سوچ سمجھ کر غذا کا انتخاب کرتے ہوئے ہم پورے مہینے میں صحت مند اور توانا رہ سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بہت ضروری ہے پانی کی کمی کہ رمضان جسم کو کے لیے

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا