پی ٹی آئی غیر قانونی تنظیم ہے، اکاؤنٹس فریز کیے جائیں، اکبر ایس بابر
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
تحریک انصاف کے منحرف رہنما اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ایک غیر قانونی تنظیم ہے، ان کے اکاؤنٹس فریز کیے جائیں۔
الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ گزشتہ سماعتوں کی طرح آج بھی تمام دلائل دینے کو تیار تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کے آرڈر کے مطابق کیس کی پروسیڈنگس کو نہیں روک سکتے اور اب کیس کو ایک بار پھر عید کے بعد تک ملتوی کیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں پھر سے الیکشن کا وقت نہ آ جائے ۔ یہ جو گزارشات پیش کرتے ہیں ، اس کا انہیں خود بھی پتا نہیں ہوتا ۔ یہ کیسے ورکرز کو ان کا حق دینے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ یہ ایک غیر قانونی تنظیم ہے ۔
اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی یہ ڈھونگ رچا رہی ہے کہ ہم جمہوریت کے فروع میں کردار ادا کر رہے ہیں ۔ ہم نے گزارش کی تھی کہ ان کے اکاؤنٹس فریز کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اکبر ایس بابر پی ٹی آئی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔