چیمپیئنز ٹرافی 2025: کرکٹ شائقین کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں مفت افطار باکس دیے جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رمضان المبارک کے دوران کرکٹ شائقین کے لیے ایک خوبصورت اقدام کیا ہے اور 5 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہونے والے آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 کے دوسرے سیمی فائنل کے دوران تماشائیوں کے لیے مفت افطار باکس کا اعلان کیا ہے۔
قذافی اسٹیڈیم میں نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان ہونے والے سنسنی خیز میچ کو دیکھنے والے شائقین کو مفت افطار باکس دیا جائے گا۔ صرف میچ ٹکٹ دکھانے والے تماشائیوں کو جوس اور ایک مِنی پیزا پر مشتمل پیکج ملے گا، تاکہ وہ میچ کے دوران افطار کے لیے بے فکر ہو کر کھیل کا لطف اٹھا سکیں۔
افطار کے علاوہ، شائقین کو آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 کے دوسرے سیمی فائنل کے دوران اسٹیڈیم کے اندر مختلف کھانے پینے کی اشیا خریدنے کا بھی موقع ملے گا۔ میچ دوپہر 2 بجے شروع ہوگا اور افطار کا وقت 6:05 بجے ہے۔
مزید پڑھیں: پشاور کا وہ رمضان دسترخوان جس کے لیے بھارت سے بھی صدقات آتے ہیں
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2025 کا ایڈیشن 8 سال کے وقفے کے بعد آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کی واپسی ہے، آخری ٹورنامنٹ 2017 میں ہوا تھا جس میں پاکستان نے اپنے روایتی حریف بھارت کو فائنل میں شکست دی تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے احسن اقدام سے قبل ایمرٹس کرکٹ بورڈ کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں رمضان کے دوران کرکٹ انجوائے کریں، افطار کی فکر چھوڑ دیں، افطار باکس روزے داروں کو نشستوں پر ہی فراہم کردیا جائے گا۔
اعلان کیا گیا تھا کہ چیمپیئنز ٹرافی 2025 کرکٹ فینز چاہے جنرل اسٹینڈ میں بیٹھے ہوں یا پھر پریمیئر اسٹینڈ میں، چاہے پویلین اور پلاٹینیم اسٹینڈ سے میچ سے لطف اندوز ہورہے ہوں، سب روزے دار فینز کو افطار باکس فراہم کردیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کرکٹ بورڈ رمضان المبارک کرکٹ شائقین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کرکٹ بورڈ رمضان المبارک کرکٹ شائقین چیمپیئنز ٹرافی 2025 افطار باکس کرکٹ بورڈ کے دوران کے لیے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں