صوبے میں بدامنی افغانستان کے باعث ہے، سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے، علی امین گنڈا پور
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
صوبے میں بدامنی افغانستان کے باعث ہے، سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے، علی امین گنڈا پور WhatsAppFacebookTwitter 0 4 March, 2025 سب نیوز
پشاور (سب نیوز )وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ صوبے خصوصا ضم اضلاع میں امن و امان کی خراب صورتحال کا سامنا ہے جس کا براہ راست تعلق پڑوسی ملک افغانستان کیساتھ ہے جب کہ مسئلے کے پائیدار حل کیلئے سب کو مل سنجیدہ اور نتیجہ خیز اقدامات کرنے ہوں گے۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میرئیٹ نے پشاور میں ملاقات کی۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے میں امن و امان کی صورتحال سمیت دیگر امور پر گفتگو ہوئی، اس کے علاوہ صوبے میں برطانوی ڈونر ایجنسیوں کے باہمی تعاون سے جاری سرگرمیوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعلی خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ صوبے خصوصا ضم اضلاع میں امن و امان کے مسئلے کو بروقت حل نہ کیا گیا پورا ملک لپیٹ میں آجائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں بات چیت کے لیے جرگہ تشکیل دیا گیا ہے ، افغانستان جرگہ بھیجنے کے لئے ہماری ساری تیاریاں مکمل ہیں، صرف وفاقی حکومت سے ٹی اور آرز کی منظوری کا انتظار ہے۔
علی امین گنڈا پور نے اس امر پر زور دیا کہ پائیدار امن کا قیام پورے خطے اور دنیا کہ مفاد میں ہے جب کہ پاکستان اور دیگر ممالک بھی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے کل وقتی حل کے لیے اجتماعی طور پر کوششیں کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ افعان مہاجرین کی وطن واپسی سے متعلق وفاق کا جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر عمل کیا جائے گا، اگر افعان مہاجرین کے انخلا کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو ساتھ میں ان کی باعزت واپسی کا پلان بھی ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: علی امین
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔