ظلم ،جبر کے ہتھکنڈوں کے باوجود پی ٹی آئی آج بھی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے۔ مسرت چیمہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ظلم اور جبر کے ہر طرح کے ہتھکنڈوں کے باوجود تحریک انصاف آج بھی ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے ،سلاخوں کے پیچھے ہونے کے باوجود بانی پی ٹی آئی عمران خان کی غیر معمولی مقبولیت فارم 47مارکہ حکومت کا سب سے بڑا روگ ہے ۔ اپنے بیان میں مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت ، رہنمائوں اور کارکنان کو خوفزدہ کرنے اور توڑنے کے لئے بد ترین مظالم کے جو پہاڑ توڑے گئے ہیں اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ، اس کے باوجود پی ٹی آئی کے ادنیٰ سے ادنیٰ کارکن کا عزم متزلزل نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل کی صعوبتوں کے باوجود ملک و قوم کے لئے ڈٹے ہوئے ہیں ، ان کاتمام رہنمائوں اور کارکنان کے لئے یہی پیغام ہوتا ہے کہ تاریک رات جلد ختم ہو گی اور ایسی صبح طلوع ہو گی جس سے ملک کا مستقبل حقیقی معنوں میں روشن ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان شااللہ بانی پی ٹی آئی کے جیل سے باہر آنے کی دیر ہے نام نہاد مقبولیت کے دعویدارحکمران اپنا بوریا بستر لپیٹتے ہوئے نظر آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے باوجود پی ٹی آئی
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔