ظلم ،جبر کے ہتھکنڈوں کے باوجود پی ٹی آئی آج بھی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے۔ مسرت چیمہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ظلم اور جبر کے ہر طرح کے ہتھکنڈوں کے باوجود تحریک انصاف آج بھی ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے ،سلاخوں کے پیچھے ہونے کے باوجود بانی پی ٹی آئی عمران خان کی غیر معمولی مقبولیت فارم 47مارکہ حکومت کا سب سے بڑا روگ ہے ۔ اپنے بیان میں مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت ، رہنمائوں اور کارکنان کو خوفزدہ کرنے اور توڑنے کے لئے بد ترین مظالم کے جو پہاڑ توڑے گئے ہیں اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی ، اس کے باوجود پی ٹی آئی کے ادنیٰ سے ادنیٰ کارکن کا عزم متزلزل نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل کی صعوبتوں کے باوجود ملک و قوم کے لئے ڈٹے ہوئے ہیں ، ان کاتمام رہنمائوں اور کارکنان کے لئے یہی پیغام ہوتا ہے کہ تاریک رات جلد ختم ہو گی اور ایسی صبح طلوع ہو گی جس سے ملک کا مستقبل حقیقی معنوں میں روشن ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان شااللہ بانی پی ٹی آئی کے جیل سے باہر آنے کی دیر ہے نام نہاد مقبولیت کے دعویدارحکمران اپنا بوریا بستر لپیٹتے ہوئے نظر آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے باوجود پی ٹی آئی
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔