اسرائیل کی داخلی سیکیورٹی ایجنسی شن بیٹ نے منگل کے روز حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملے کو روکنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے مختلف طریقے سے کام کیا ہوتا تو اسرائیل کی تاریخ کے مہلک ترین دن کو ٹالا جا سکتا تھا۔

شن بیٹ یعنی داخلی سلامتی ایجنسی نے، جیسا کہ اسے باضابطہ طور پر جانا جاتا ہے، کہا کہ ایک اندرونی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ اگر شن بیٹ نے حملے سے پہلے اور حملے کی رات دونوں میں مختلف طریقے سے کام کیا ہوتا تو قتل عام کو روکا جا سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: قاہرہ مذاکرات: حماس نے جنگ بندی کو مکمل اسرائیلی انخلا سے مشروط کردیا

یہ اعتراف اسرائیلی فوجی تحقیقات میں حملے کے دوران اسرائیلیوں کی حفاظت میں اسی طرح کی ناکامیوں کو نوٹ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے اور غزہ کی پٹی میں ایک تباہ کن جنگ کو جنم دیا، جہاں ہزاروں فلسطینی شہید کیے جاچکے ہیں۔

شن بیٹ کی تحقیقات سے حاصل ہونے والے نتائج کے خلاصے کی ابتدائی سطروں میں، ایجنسی کے سربراہ رونن بار نے ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سے، میں زندگی بھر یہ بھاری بوجھ اپنے کندھوں پر برداشت کروں گا۔

مزید پڑھیں: پس پردہ کہانی: حماس اسرائیل معاہدہ کیسے ممکن ہوا؟

تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ صحیح معنوں میں یہ سمجھنے کے لیے کہ اس حملے کو کیسے روکا نہیں گیا، اسرائیل کی سلامتی اور سیاسی عناصر کے کردار اور ان کے درمیان تعاون کے بارے میں وسیع تر تحقیقات کی ضرورت ہے۔

خلاصہ کے مطابق، تحقیقات نے دو اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی، وہ براہ راست وجوہات جن کی وجہ سے شن بیٹ حماس کی جانب سے فوری خطرے اور حملے سے قبل پیش رفت کو بھانپنے میں ناکام رہا۔

مزید پڑھیں: پاکستان اسرائیلی جیلوں سے رہا فلسطینی قیدیوں کی میزبانی پر آمادہ ہوگیا، حماس کا دعویٰ

رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ شن بیٹ نے دشمن یعنی فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کو کم سمجھا، اس کے برعکس، خطرے، اقدامات اور خطرے کو بے اثر کرنے کی خواہش، خاص طور پر حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی گہری سمجھ تھی۔

تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ حماس کے حملے کے منصوبے کی پیشگی معلومات کو رد عمل کے قابل نہیں سمجھا گیا اور اس بات کا ایک وسیع اندازہ تھا کہ حماس مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد بھڑکانے پر زیادہ توجہ مرکوز کررہی ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل مغربی کنارے میں نسل پرستی کا نظام نافذ کر رہا ہے، سابق موساد چیف

مزید برآں، تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ قطر سے مالی امداد، جو براہ راست حماس کے عسکری ونگ کو جاتی ہے، اور خاموشی کی پالیسی نے حماس کو بڑے پیمانے پر فوجی سازوسامان کو اکٹھا کرنے کے قابل بنایا ۔

آخر میں، ایجنسی نے اپنے خلاصے میں کہا ہے کہ شن بیٹ حملے کے دائرہ کار اور حماس کی طرف سے بڑے پیمانے پر چھاپے کے بارے میں ایک انتباہ فراہم کرنے میں ناکام رہا، جس نے غزہ میں کئی مہینوں کی جنگ کو جنم دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل حماس داخلی سلامتی ایجنسی سیکیورٹی ایجنسی شن بیٹ عسکری ونگ غزہ کی پٹی قطر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل داخلی سلامتی ایجنسی سیکیورٹی ایجنسی شن بیٹ غزہ کی پٹی تحقیقات سے حماس کے شن بیٹ کہا کہ

پڑھیں:

بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف---فائل فوٹو 

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا کردار واضح ہے، 2018ء میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی دوبارہ واپس لائی گئی۔

بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ حال ہی میں مستونگ میں سیشن جج کا قتل بھی دہشت گردی کی سنگین مثال ہے، دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوم نے مل کر کرنا ہے۔

انہوں نے افغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سر زمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے تاہم افسوس کے ساتھ کہا کہ افغان حکومت دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے جبکہ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں۔

انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا۔

پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی میں اہم کامیابیاں حاصل کیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے

وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے اور بلوچستان کے عوام نے قیامِ پاکستان اور وفاق کے استحکام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ شاہراہ کی تعمیر پر کام جاری ہے۔

این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا اور دیگر صوبوں نے بھی بھرپور تعاون کیا۔ 

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے چاروں صوبوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گا۔

ورکشاپ کے شرکاء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی چاروں صوبوں کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہے اور اب ملک کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملہ ناکام، 12 خوارج ہلاک، 15 اہلکار و سرکاری ملازم شہید
  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سیکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع، کون سی خفیہ معلومات افشا کی؟
  • بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم