کاروباری، صنعتی حلقوں کا شرح سود میں طویل مدت کٹوتی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, March 2025 GMT
کراچی:
ملک کے کاروباری طبقے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شرح سود میں 6 فیصد تک کٹوتی کی جائے تاکہ ملک میں معاشی سرگرمیاں بحال اور تیز ہوسکیں.
واضح رہے کہ اس وقت ملک میں شرح سود 12 فیصد ہے اور حکومتی دعوؤں کے مطابق ملک میں افراط زر یعنی مہنگائی میں مسلسل کمی آرہی ہے.
مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کے حوالے سے آئندہ اجلاس 10 مارچ کو ہوگا، کاروباری حلقے کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر آئندہ 5 برسوں کے لیے شرح سود میں 6 فیصد کٹوتی کرے اور اس کے ساتھ ہی کاروباری افراد کے لیے مراعاتی اسکیم کا اعلان کرے تاکہ کنسٹرکشن صنعت ایک بار پھر بحال ہوسکے اور اس کے ساتھ ہی چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے لییقرضوں کی اسکیم کا بھی اعلان کیا جائے.
اس حوالے سے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معروف صنعت کار اور برآمدکنندہ اسماعیل ستار کا کہنا تھا کہ شرح سود میں کمی یا اضافے کا سب سے بہترین پیمانہ یہ ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے افراط زر پر نظر رکھی جائے.
فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کراچی کے صدر شیخ محمد تحسین نے بھی اسٹیٹ بینک پر زور دیا کہ وہ شرح سود کو طویل مدت کے لیے سنگل نمبر کی حد میں لے آئے تاکہ صنعتیں کمرشل بینکوں سے قرض لے سکیں کیونکہ کم شرح سود کی وجہ سے صنعتیں اس بات پر آمادہ ہوں گی کہ بینکوں سے قرض لے کر کاروبار کو فروغ اور وسعت دی جاسکے.
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عارف اکرام شیخ کا کہنا تھا کہ تمام صنعتی نمائندوں اور شعبوں سے مشاورت اور بات چیت کے بعد ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شرح سود میں فوری طور پر 5 فیصد کمی کی جائے اور اسے خصوصی سرمایہ کاری کی کونسل کے وژن سے ہم آہنگ کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔