امریکی وزیر خارجہ اور ایلون مسک کے درمیان شدید اختلافات، ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور صدر کے مشیر ایلون مسک کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے۔
امریکا کی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں امریکی محکمہ حکومتی کارکردگی (ڈی او جی ای) کے سربراہ ایلون مسک نے وزیر خارجہ پر کڑی تنقید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ اپنے محکمے میں اسٹاف کم کرنے میں ناکام رہے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ ایلون مسک سچ نہیں بول رہے، ان کے محکمے کے 1500 ملازمین نے قبل از وقت ریٹائرڈمنٹ لے لی ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ کیا وہ ان ملازمین کو واپس نکال ملازمتوں سے نکال کر دکھائیں؟
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے مداخلت کی اور کہا کہ اسٹاف رکھنے سے متعلق حتمی اختیار ایلون مسک کا نہیں وزرا کا ہے، ایلون مسک کا ادارہ صرف ایڈوائزیری کا کردار ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ ایلون مسک کو ٹرمپ انتظامیہ میں ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشیئنسی (ڈی او جی ای) کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جس کا مقصد امریکی وفاقی حکومت کے اخراجات کو کم اور غیرضروری آپریشنز کو بند کرنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
doge elon musk marco robio ایلون مسک مارکو روبیو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایلون مسک مارکو روبیو ایلون مسک
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔