اسلام ٹائمز: کوئٹہ میں منعقدہ فلسطین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ غاصب اسرائیل کو ریاست تسلیم کرنا عالمی انصاف کیخلاف ہے۔ پاکستان کے عوام اور سیاسی رہنماء فلسطینی عوام کیساتھ کھڑے ہیں۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: اعجاز علی

فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کی جانب سے مظلوم فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں فلسطین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ کانفرنس میں مذہبی، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور خواتین سمیت عوام نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء نے اسرائیلی مظالم اور فلسطینیوں کی مظلومیت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ اور گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ غزہ میں 25 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ عالمی قوتوں کا اسرائیلی مظالم پر خاموش رہنا افسوسناک ہے۔ مقررین نے کہا کہ عرب ممالک کا اسرائیل کو تسلیم کرنا فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالی ہے۔ حماس کے حملے نے ہمارے حکمرانوں کی بے ضمیری کو بے نقاب کیا۔ فلسطین کے حق خود ارادیت کی حمایت میں عالمی برادری سے فوری اقدامات اٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ غاصب اسرائیل کو ریاست تسلیم کرنا عالمی انصاف کے خلاف ہے۔ پاکستان کے عوام اور سیاسی رہنماء فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دنیا کفر کے ساتھ عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا، لیکن فلسطینی عوام کا حق تسلیم نہیں کیا۔ مسلم امہ نے فسلطینوں کے حق میں آواز بننے کے بجائے کھول کر مذمت تک نہیں کی۔ مقررین نے کہا کہ دنیا بھر کے تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ اس وقت بے شمار لوگ اسرائیل کی قید میں بند ہیں اور ٹارچر سیل میں شہید ہوچکے ہیں۔ عالمی ادارے ایک طرف امن کے دعوے کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی اسرائیل کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اسرائیل کھلم کھلا انسانی حقوق کی پامالی اور عالمی اداروں کی قوانین کی خلاف وزری کر رہا ہے۔

مقررین نے کہا کہ فلسطینی ایک مضبوط قوم ہے۔ جس پر یہود و نصاریٰ نے قبضہ کیا۔ عرب ممالک صیہونی قوتوں کے غاصب اور مظالم پر خاموش ہیں۔ امن کے معائدوں کے دوران ہی ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیل کو اسلحہ فراہم کیا ہے۔ مسلم امہ کی خاموشی سے اسرائیل کے سامنے تسلیم ہونے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطنیوں پر اسرائیلی جارحیت کے پورے عرصے میں خاموش رہا ہے، جو قابل مذمت ہے۔ پاکستان کو اسرائیلی مظالم کی مذمت اور فلسطینی عوام کی بھرپور حمایت کرنی چاہیئے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فلسطینی عوام اسرائیل کو نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق