سال 25۔2024 میں خواتین پارلیمنٹیرینز کی کارکردگی کیسی رہی؟ فافن کی رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )غیر سرکاری تنظیم فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے سال 25۔2024 میں خواتین پارلیمنٹیرینز کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔
نجی ٹی وی جیو نیوز نے رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ 25۔2024 میں خواتین کی جانب سے ایجنڈا آئٹمز پیش کرنے میں کمی دکھائی دی، سال 2022 اور 2023 میں خواتین پارلیمنٹیرینز کا ایجنڈا قومی اسمبلی میں 67 فیصد تھا، یہ 23-2022 میں 69 فیصد تھا جبکہ 22-2021 میں 81 فیصد تھا۔سال 24-2023 میں سینیٹرز خواتین کا ایجنڈا آئٹمز میں 77 فیصد حصہ تھا جو کہ 2022 اور 23 میں 85 فیصد اور 22-2021 میں 94 فیصد تھا۔
25۔2024 میں خواتین ارکان کی قومی اسمبلی میں حاضری 75 فیصد رہی جبکہ مرد ارکان کی حاضری 63 فیصد رہی۔سینیٹ میں خواتین سینیٹرز کی حاضری 67 فیصد جبکہ مرد ارکان کی حاضری 64 فیصد رہی۔
خواتین ایم این ایز نے 68 فیصد اور خواتین سینیٹرز نے 26 فیصد توجہ دلاو نوٹس پیش کئے۔خواتین ارکان قومی اسمبلی نے 42 فیصد جبکہ سینیٹرز نے 47 فیصد نجی بل پیش کئے۔
ایم این اے خواتین نے 45 فیصد جبکہ سینیٹرز خواتین نے 32 فیصد بحث کی تحاریک پیش کیں۔خواتین ایم این ایز نے 45 فیصد جبکہ خواتین سینیٹر نے 75 فیصد قراردادیں پیش کیں۔خواتین ایم این ایز نے 55 فیصد جبکہ خواتین سینیٹرز نے 28 فیصد سوالات پیش کئے۔ایک فیصد خواتین ممبران قومی اسمبلی نے بحث میں حصہ لیا، 25 فیصد نے ایجنڈا پیش کیا جبکہ 65 فیصد نے ایجنڈا پیش کرنے کے ساتھ بحث میں بھی حصہ لیا۔
13 فیصد سینیٹرز خواتین نے ایجنڈا جمع کرایا جبکہ 87 فیصد خواتین سینیٹرز نے ایجنڈا جمع کرایا اور بحث میں حصہ لیا۔ قومی اسمبلی میں 54 مرد ممبران جبکہ پانچ خواتین ممبران نے کسی چیز میں حصہ نہیں لیا۔سینیٹ میں تین مرد ممبران اور ایک خاتون ممبر نے کسی چیز میں حصہ نہیں لیا۔
خواتین ارکان قومی اسمبلی کی حاضری مرد ممبران سے بہتر رہی، خواتین ارکان کی تعداد پارلیمنٹ میں صرف 17 فیصد ہے تاہم انہوں نے 49 فیصد پارلیمانی ایجنڈا پیش کیا۔
ٹرمپ سے کئی زیادہ خطرناک اور ناقابل اعتبارانکے اردگرد کے لوگ ہیں،پاکستان کیوں امریکی ریڈار پر ہے ۔۔؟ڈاکٹر عادل نجم کھل کر بول پڑے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: خواتین سینیٹرز خواتین ارکان قومی اسمبلی سینیٹرز نے میں خواتین فیصد جبکہ نے ایجنڈا کی حاضری فیصد تھا ارکان کی
پڑھیں:
مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون کا طاقتور سپیل جاری ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آج بھی وقفے وقفے سے بارش کی پیش گوئی کردی، مون سون بارشوں کے باعث حبس اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کم سے کم درجہ حرارت 27 اور زیادہ سے زیادہ 32 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، شہر کا موجودہ درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوا کی رفتار 11 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ہوا میں نمی کا تناسب 83 فیصد رہا۔محکمہ موسمیات نے آج جمعہ کے روز پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں پر اثرانداز ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی موسم کو متاثر کر رہا ہے، اس کے باعث بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا امکان برقرار رہے گا۔پیشگوئی کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، مری، گلیات، جہلم، اٹک اور چکوال سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے، خیبرپختونخوا کے پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، دیر، چترال، کوہستان اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے، سندھ کے بالائی اور جنوب مشرقی علاقوں میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، تاہم صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں شدید بارش کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، برساتی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے جبکہ شہریوں، بالخصوص سیاحوں اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ادھر قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے بھی مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ تیز بارش، آندھی یا گرج چمک کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔