کراچی(شوبز ڈیسک)ٹی وی میزبان و اداکارہ نادیہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ نامناسب سوالات بار بار پوچھے جانے پر انہوں نے یوٹیوبر نادر علی کا پوڈکاسٹ چھوڑ دیا تھا۔

نادیہ خان حال ہی میں ’365 نیوز‘ کے رمضان پروگرام میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر باتیں کی۔

پروگرام کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اداکاروں کو کسی بھی پوڈکاسٹ میں جاتے وقت یہ خیال رکھنا چاہیے کہ انہیں مختلف سوالات کرکے پھنسانے کی کوشش کی جائے گی۔

ان کے مطابق پوڈکاسٹرز کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اداکار مہمانوں سے غلط سوالات کرکے انہیں پھنسائیں اور پھر اپنے ویوز حاصل کریں۔

نادیہ خان کا کہنا تھا کہ انہیں بھی ایک یوٹیوبر نے پھنسانے کی کوشش کی، جس پر انہوں نے بروقت ایکشن دکھایا۔

اداکارہ کے مطابق ماضی میں یوٹیوبر نادر علی کے پوڈکاسٹ میں شریک ہوئیں تو میزبان نے بار بار ان سے نامناسب سوالات پوچھنا شروع کیے، جس پر انہوں نے شو کو چھوڑ دیا۔

اداکارہ نے بتایا کہ وہ پوڈکاسٹ چھوڑ کر سائیڈ پر بیٹھ گئیں اور انہوں نے شو ریکارڈ کروانے سے انکار کیا، جس پر یوٹیوبر نے ان سے معافی مانگی۔

ان کا کہنا تھا کہ یوٹیوبر نے وعدہ کیا کہ وہ ان سے نامناسب اور غلط سوال نہیں کریں گے، جس کے بعد ہی انہوں نے بقیہ پروگرام ریکارڈ کروایا۔

نادیہ خان نے کہا کہ ان کی جانب سے شو کو چھوڑنے اور غلط سوالات پر اٹھ کھڑے ہونے پر یوٹیوبر پیچھے ہٹے اور دیگر اداکاروں کو بھی پوڈکاسٹس میں شرکت کے وقت ایسا ہی کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق یوٹیوبر کو صرف ویوز چاہیے تھے لیکن انہیں بطور اداکارہ عزت چاہیے تھی اور انہیں اپنا کیریئر بھی بڑھانا تھا، اس لیے انہوں نے نامناسب سوالات پر احتجاج کا درست فیصلہ کیا۔

نادیہ خان نے براہ راست نادر علی کا نام نہیں لیا، تاہم میزبان ژالے سرحدی نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ وہی یوٹیوبر ہیں، جنہوں نے سنیتا مارشل سے نامناسب سوال کیا تھا؟ جس پر نادیہ خان نے ہاں میں جواب دیا۔

خیال رہے کہ نادیہ خان فروری 2023 میں نادر علی کے پوڈکاسٹ میں شریک ہوئی تھیںْ۔

View this post on Instagram

A post shared by 365 News (@365.

newspk)


مزیدپڑھیں:اپوزیشن کے رویے سے لگتا ہے کہ انہیں عوامی مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں، بلاول بھٹو

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نامناسب سوالات نادیہ خان نے نادر علی

پڑھیں:

وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مکانات کی مسماری پر میرواعظ عمر فاروق کا شدید رنج

مولوی محمد عمر فاروق نے کہا کہ ہر انسانی جان کا ضیاع غلط اور ناقابلِ قبول ہے لیکن کسی ایک شخص کے پُرتشدد عمل کو سب کیلئے اجتماعی سزا کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ میرواعظِ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ چند دنوں کے دوران پورے کشمیر میں نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، پوچھ گچھ اور ہراسانی پر شدید تشویش اور رنج و اضطراب کا اظہار کیا۔ دو ہزار سے زائد نوجوانوں کو مبینہ طور پر "اوور گراؤنڈ ورکرز" یا او جی ڈبیلو ہونے کے الزام میں اٹھایا گیا ہے۔ مشتبہ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ایک پولیس اہلکار کے قتل کے بعد اٹھائے گئے ان اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عسکریت پسندی کے خاتمے کے دعوؤں کے باوجود اس طرح کا واقعہ پیش آنا باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسانی جان کا ضیاع غلط اور ناقابلِ قبول ہے، لیکن کسی ایک شخص کے پُرتشدد عمل کو سب کے لئے اجتماعی سزا کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اس قتل کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیئے، لیکن بے گناہ نوجوانوں اور ان کے اہلِ خانہ کو قربانی کا بکرا بنا کر تکلیف میں مبتلا نہیں کیا جانا چاہیئے۔

مشتبہ عسکریت پسندوں کے مکانات منہدم کرکے ان کے اہلِ خانہ کو بے گھر کرنے کی اطلاعات بھی ایک اور ماورائے عدالت اور غیر منصفانہ اقدام ہے، ایسے اقدامات ناراضی اور غصے کو مزید گہرا کرتے ہیں اور بالآخر الٹا نتیجہ دیتے ہیں۔ کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز اور صحافی عرفان معراج کی برسوں کی قید کے بعد ضمانت پر رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے میرواعظ نے امید ظاہر کی کہ ان کی کشمیر واپسی پر عائد پابندیوں پر بھی نظرثانی کی جائے گی تاکہ وہ جلد سرینگر میں اپنے گھروں کو واپس آکر اپنے اہلِ خانہ سے مل سکیں۔ انہوں نے دیگر کشمیری قیدیوں کے لئے بھی راحت کی امید ظاہر کی، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ضمانت مل چکی ہے لیکن دوسرے مقدمات میں ملوث کئے جانے کے بعد وہ بدستور قید ہیں، اور وہ بھی جن کی ضمانت کی درخواستیں ابھی زیرِ سماعت ہیں۔

نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ اپنے حقیقی مسائل اور تحفظات کے لئے آواز اٹھانے والے نوجوانوں کو سنا جانا چاہیئے اور ان کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیئے، نہ کہ انہیں پولیس کارروائی اور طاقت کا سامنا کرنا پڑے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ نہتے مظاہرین کو پیلٹ لگنے کی اطلاعات ان تباہ کن اثرات کی دردناک یاد دہانی ہیں جو گزشتہ دہائیوں میں سینکڑوں کشمیری پیلٹ گنوں کے باعث جھیل چکے ہیں، جن سے ان کی آنکھیں اور زندگیاں ہمیشہ کے لیے متاثر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا افسوسناک ہے کہ اب دہلی کے طلبہ کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کا استعمال کسی شکایت یا مسئلے کو حل نہیں کر سکتا، خواہ وہ دہلی میں ہو یا کشمیر میں، مسائل کے حل کا واحد راستہ بات چیت، جوابدہی اور باہمی رابطہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مکانات کی مسماری پر میرواعظ عمر فاروق کا شدید رنج
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • جوز بٹلر نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا