سونا اسمگل کرنے پر زیر حراست اداکارہ کے بھارتی ایجنسی پر سنگین الزامات
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
جنوبی بھارتی اداکارہ رانیہ راؤ نے محکمہ ریونیو انٹیلی جنس (ڈی آر آئی) کے اہلکاروں پر دورانِ تفتیش ہراسانی اور تضحیک کا الزام عائد کیا ہے۔ رانیہ راؤ کو دبئی سے سونا اسمگل کرنے کے الزام میں بینگلور ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا۔
عدالتی سماعت کے دوران رانیہ راؤ نے دعویٰ کیا کہ تفتیش کے دوران انہیں دھمکایا اور ہراساں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ سوالات کے جواب نہ دیتیں تو اہلکار انہیں دھمکاتے اور کہتے کہ 'تمہیں پتہ ہے اگر تم نے نہ بولا تو کیا ہوگا'۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں جسمانی طور پر نقصان نہیں پہنچایا گیا لیکن زبانی بدسلوکی کی گئی جس سے انہیں شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ڈی آر آئی اہلکاروں کی جانب سے رانیہ راؤ کے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ رانیہ راؤ دورانِ تفتیش سوالات کا جواب دینے سے انکار کرتی رہیں اور ہر بار خاموش رہتی تھیں۔
تفتیشی افسر کے مطابق رانیہ راؤ کو شواہد دکھانے اور مخصوص سوالات کرنے کے باوجود بھی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی رانیہ راؤ عدالت میں داخل ہوئیں، ان کے وکیل نے انہیں ہدایات دی تھیں کہ کیا کہنا ہے۔
ان بیانات کے بعد جج نے رانیہ راؤ کے وکلاء سے سوال کیا کہ کیا وہ ان کے بیانات پر اثر انداز ہو رہے ہیں؟ عدالتی کارروائی جاری ہے اور مزید تحقیقات کے بعد حقائق سامنے آئیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔