صدر کت ایجنڈ ے پر عمل کرینگے : خواجہ آصف : مہنگائی کنٹرول کا روڈ میپ دیا پیپلز پارٹی
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ نامہ نگار+نمائندہ خصوصی) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ صدر کا خطاب آئین کی ضرورت ہے۔ ان کے دیئے گئے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوں گے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی نہیں ہونی چاہئے تھی مگر یہ پی ٹی آئی کی روایت بن چکی ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات تو کبھی ہوئے ہی نہیں تھے۔ میں تو پہلے بھی کہہ رہا تھا مذاکرات نہیں ہو رہے۔ لوگ مانتے ہی نہیں۔ بانی پی ٹی آئی اور فیض حمید اگر ہزاروں کی تعداد میں طالبان کو نہ لاتے تو آج دہشتگردی ختم ہو چکی ہوتی۔ ہمارے فوجی جوان روزانہ شہید ہو رہے ہیں۔ فتنہ الخوارج کے خلاف لگاتار آپریشن ہو رہے ہیں۔ افواج پاکستان کو پچھلے ڈیڑھ ماہ میں خاطر خواہ کامیابیاں ملی ہیں۔ خارجیوں کے ٹھکانوں پر حملے کئے گئے۔ بہت سے جنم واصل ہوئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کے لگائے پودوں کے قلع قمع ہونے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ سابق سینئیر وزیر و جنرل سیکرٹری پی پی پی وسطی پنجاب حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ صدرِکا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب جمہوریت کی مضبوطی کی نشانی ہے،’’پاکستان کھپے‘‘ سے لیکر آج تک زرداری نے پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا،پیپلزپارٹی نے پاکستان میں جمہوری رویوں کو پروان چڑھانے کے لیے کسی قسم کی قربانی سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ پیپلزپارٹی نے پارلیمانی نظام کو بچانے کے لیے غیر فطری اتحاد کے کڑوے گھونٹ پیے اورپیپلز پارٹی سیاست میں ہمیشہ مذاکرات کی بات کرتی نظر آئی ہے۔ مشکل حالات میں دھشت گردی سمیت اہم ایشوز پر اہل سیاست کا اتفاق رائے عوامی مفاد کے اشد ضروری ہے,پیپلزپارٹی چیرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں پارلیمانی جموریت کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔سابق وزیر اعظم اور پی پی پی وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف نے صدر آصف زرداری کی تقریر پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت صدر نے آصف زرداری کی تجاویز پر عمل کر کے بحرانوں سے نکل سکتی ہے۔ صدر نے مہنگائی اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں پر کنٹرول کے لیے واضح روڈ میپ دیا۔ صدر مملکت کی تقریر جامع سیاسی تدبر، تجربے اور وژن سے بھرپور تھی جس میں شہید محترمہ کے خیالات کی بھر پور عکاس تھی۔ دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالنے پر صدر مملکت کا موقف زمینی حقائق پر مبنی ہے۔ وفاق کو جوڑنے اور پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رکھنے میں صدر کے کردار سے انکار ممکن نہیں، پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت نے ہمیشہ "پہلے پاکستان" کے نعرے کو تقویت دی ہے۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اپوزیشن اتحاد کانفرنس میں جو زبان استعمال کی گئی ماضی میں کسی نے نہیں کی۔ فوجی آمریتوں میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے اوپر بہت ظلم ہوئے۔ بھٹو کو پھانسی‘ نواز شریف کو جیل‘ بے نظیر کو قید کیا گیا۔ ہم نے سیاست کو سیاست کے میدان میں لڑا ہے۔ ہماری فوج روزانہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کر رہی ہے۔ اس وقت فوج کے خلاف بات کرنا ملک سے وفاداری نہیں بلکہ غداری ہے۔ آجکل روزے ہیں۔ پی ٹی آئی کا شور ایسے ہے جیسے سحری میں ڈھول بجانا‘ میرا نہیں خیال بانی پی ٹی آئی کو منانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بانی کو منانا کسی پروگرام میں شامل نہیں۔ اسلام آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق شازیہ مری نے کہا ہے کہ زرداری کا خطاب تاریخی تھا۔ صدر پاکستان کی تقریر معاشی بحالی، سیاسی استحکام، علاقائی مساوات، اور سکیورٹی میں بہتری کے جامع وژن پر مبنی تھی، قومی یکجہتی اور مل کر کام کرنے پر زور دیا۔ صدر نے پارلیمنٹ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ذاتی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفادات کو ترجیح دے۔احسن اقبال نے کہا کہ صدر زرداری کی تقریرکے دوران پی ٹی آئی والے عجیب مطالبہ کر رہے تھے۔ وہ مطالبہ کررہے تھے کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کرو، میں پوچھتا ہوں کہ حکومت کسی ایسے شخص کو کیسے رہا کرسکتی ہے جسے عدالتوں سے سزا ہوئی ہو؟ بانی پی ٹی ایک سزا یافتہ مجرم ہے۔190 ملین پائونڈ کا انہوں نے غبن کیا ہے، انہیں عدالت نے سزا دی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں 30 جنوری کو جو ڈیبیٹ ہوئی اس میں پی ٹی ائی کو شکست ہوئی، بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کو بدنام کرنے پر انہیں شرم آنی چاہیے۔ آکسفورڈ یونین میں شکست کھائی اور اس کے اوپر اپنی ویڈیو کو جیت بنا کر پیش کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی زرداری کی پی ٹی آئی پی ٹی ا کے لیے
پڑھیں:
بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
میں مشہور ٹرانس جینڈر تلسی بٹ کی پوڈ کاسٹ دیکھ رہی تھی۔ یہ بڑا مظلوم طبقہ ہے جسے ہر جگہ پھٹکار ملتی ہے، دیگر خواجہ سراؤں کی طرح تلسی بھی کم عمری ہی میں گھر سے نکال دی گئی تھی، نو سال کی ننھی سی عمر میں اس کے والد نے اسے کسی خواجہ سرا کے سپرد کر دیا تھا، پھر وہ گیارہ سال کی عمر میں اپنے گھر واپس آئی تو لوگوں نے اس کے ساتھ زیادتیاں کیں، تلسی کے دو بھائی اور چار بہنیں ہیں، تلسی نے بہت پیسہ کمایا، وہ ایک نامور اور مشہور اسٹیج ڈانسر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کو رشتے خریدنے پڑتے ہیں، ورنہ ان کا سگا خون انھیں منہ نہیں لگاتا۔ پیدا کرنے والی ماں اجنبی بن جاتی ہے، تلسی نے بھی اپنے بھائیوں کو کاروبار کرایا، بہنوں کی شادیاں کیں، لیکن اس کی زخمی روح کو کوئی نہ سمجھ سکا۔ مجھے ٹرانس جینڈر سے ہمیشہ سے ہمدردی ہے، یہ راندۂ درگاہ لوگ بڑی اذیت بھری زندگی گزارتے ہیں، انھیں بھی خدا نے ہی پیدا کیا ہے، ان کی شخصیت میں جو نقص ہے وہ خدا کی طرف سے ہے، مغربی ممالک اور امریکا میں ان سے کوئی نفرت نہیں کرتا، بلکہ انھیں باعزت پیشوں سے منسلک کیا جاتا ہے۔
وہ میک اپ آرٹسٹ بنتے ہیں، فیشن ڈیزائنر بنتے ہیں اور عزت کی روٹی کھاتے ہیں جب کہ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش میں انھیں نہایت کم تر سمجھا جاتا ہے، انھیں نہ دفتروں میں ملازمت ملتی ہے نہ کہیں روزگار ملتا ہے، اسی لیے شام ہوتے ہی ان کے جھنڈ کے جھنڈ ٹریفک سگنلوں پہ بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، جو خوبصورت ہوتے ہیں وہ جسم فروشی بھی کرتے ہیں کہ پیٹ تو کسی نہ کسی طرح بھرنا ہی ہوتا ہے، ان کے دل پر لگے زخم کسی کو نظر نہیں آتے، انڈیا میں ٹرانس جینڈر پر کئی فلمیں بنی ہیں، جیسے ’’تمنا‘‘ جس میں پاریش راول نے خواجہ سرا کا رول کیا ہے اور پوجا بھٹ نے ایک لاوارث لڑکی کا جس کا باپ صرف لڑکوں کو جینے کا حق دیتا ہے، لڑکیوں کو نہیں۔ اس لیے اس کی بیوی ایک نوزائیدہ بچی کو کچرے دان میں ڈال دیتی ہے، لیکن پاریش راول اسے سینے سے لگا لیتا ہے اور اس کی اچھی پرورش کرتا ہے۔
دوسری فلم جو ہمیں پسند آئی تھی وہ تھی ’’شبنم‘‘، جو بھارت کی پہلی خواجہ سرا سیاست دان ’’ شبنم ماسی‘‘ کی حقیقی زندگی پر بنائی گئی تھی اور شبنم کا رول کیا تھا آشتوس رانا نے، ان کے علاوہ ’’لکشمی‘‘ ،’’ چندی گڑھ کرے عاشقی‘‘، ’’سنگھرش‘‘، ’’مرڈر2‘‘ سرفہرست ہیں۔ ایک اور فلم مجھے بہت پسند آئی تھی، وہ تھی ’’درمیان‘‘ جس میں کرن کھیر نے زینت بیگم کا لازوال کردار ادا کیا تھا اور اس کا بیٹا جوکہ خواجہ سرا تھا اس کا رول عارف ذکریا نے ادا کیا تھا اور بہت خوب کیا تھا، وہ اپنی ماں کا میک اپ مین بن جاتا ہے، ایک اور فلم جو مجھے اور میرے شریک حیات کو بہت پسند آئی تھی، وہ تھی ’’سرداری بیگم‘‘ اس فلم میں بھی سرداری بیگم کا کردار کرن کھیر نے نبھایا تھا۔ پہلے انڈیا میں ہر سنیچر کو ایک آرٹ مووی ریلیز ہوتی تھی، جو فوراً پاکستان آ جاتی تھی۔ ہم دونوں آرٹ مووی شوق سے دیکھتے تھے، لیکن بعد میں وہاں بھی سب کچھ الٹ پلٹ گیا، اب وہاں بھی بے تکی اور جذبات ابھارنے والی فلمیں بنتی ہیں، لیکن پھر بھی سنجے لیلا بھنسالی کوئی نہ کوئی بہترین فلم پیش کر دیتے ہیں۔
تلسی بٹ کا انٹرویو دیکھ کر مجھے ایک پرانا اور مظلوم کردار یاد آگیا جس کا نام مسعود تھا، شاید میرا ہی ہم عمر تھا، یہی کوئی دس بارہ سال کا گورا رنگ، گلابی ہونٹ اور بڑی بڑی آنکھیں، اس وقت طارق روڈ پر شاپنگ مالز کا جنگل آباد نہیں ہوا تھا، دس بارہ گھر تھے بلاک 2 میں، چھت پر کھڑے ہو کر سارا منظر صاف نظر آتا تھا، مسعود کا سامنے کی لین میں تیسرا گھر تھا، اچھے لوگ تھے، جب کبھی کوئی نذر نیاز ہوتی تو مسعود ہی تمام گھروں میں نیاز لے کر آتا تھا، وہ چھٹی جماعت کا طالب علم تھا، ہمارے گھر سے اگر کہیں نیاز بھیجنی ہوتی تو ہمارے ملازم غازی اور شیر دل لے کر جاتے تھے، دونوں کی دوستی مسعود سے ہو گئی تھی، ایک دن ایسا ہوا کہ مسعود روتا ہوا ہمارے گھر آیا، والدہ اور والد نے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ باپ نے اسے گھر سے نکال دیا ہے، اس کے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، اس لیے وہ یہاں آ گیا۔
وہ مسلسل رو رہا تھا اور گھر سے نکالنے کی وجہ نہ بتا پا رہا تھا۔ میرے والد اور والدہ اسے لے کر اس کے گھر پہنچے تو انکشاف ہوا کہ مسعود خواجہ سرا ہے، اسے اسکول والوں نے بھی نکال دیا ہے، سب کو پتا چل گیا ہے کہ معاملہ کیا ہے، اس کے والد کا کہنا تھا کہ ان کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، اگر انھوں نے مسعود کو گھر میں رکھا تو بہنوں کے رشتے نہیں آئیں گے، والدہ البتہ رو رہی تھیں لیکن اسے رکھنے سے قاصر تھیں۔ میرے والدین نے انھیں بہت سمجھایا کہ اس میں مسعود کا کیا قصور ہے، لیکن وہ لوگ نہیں مانے اور اسے چند ہزار روپے دے کر کہا کہ وہ بس میں بیٹھ کر رنچھوڑ لین چلا جائے اور وہاں کسی سے پتا کرے کہ خواجہ سرا کہاں رہتے ہیں؟ میرے والدین مسعود کو گھر لے آئے اور اس کو کہا کہ وہ اب یہیں رہے، ہو سکتا ہے کچھ عرصے بعد والد مان جائیں، لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ ہوا یوں کہ اس کے گھر والے اپنی کوٹھی کرائے پر دے کر کہیں اور چلے گئے، مسعود اس دن پھوٹ پھوٹ کے رویا، اب وہ ہمارے گھر کا فرد بن گیا، اسکول وہ جا نہیں سکتا تھا کیونکہ وہاں بچے اور ٹیچر اس کا مذاق اڑاتے تھے، لہٰذا مجھے جو ٹیچر پڑھانے آتے تھے ان سے کہا گیا کہ وہ مسعود کو نویں جماعت کی تیاری کروائیں۔
انھوں نے پہلے آٹھویں جماعت کا کورس اسے پڑھایا، پھر نویں کی تیاری کروانے لگے۔ میری والدہ نے مسعود سے کہا کہ وہ کوئی ہنر سیکھ لے تاکہ زندگی میں کام آئے۔ جب اس نے آمادگی ظاہر کی تو والدہ اسے تھوڑا تھوڑا کرکے کھانا پکانا سکھانے لگیں۔ نویں جماعت کا امتحان دے کر وہ فارغ تھا، اس لیے اس نے بڑی جانفشانی سے کھانا پکانا اور ڈائننگ ٹیبل پہ سرو کرنا سب کچھ سیکھ لیا۔ وہ ہمارے ساتھ ہی کھانا کھاتا، والد، والدہ، دادی اور میرے دونوں بڑے بھائی اس کا بہت خیال رکھتے تھے تاکہ وہ اپنا ماضی بھول جائے۔
کافی وقت گزر چکا تھا لیکن مسعود عید بقر عید پہ بہت اداس ہو جاتا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور اس عرصے میں 1966 میں میری والدہ کا انتقال ہو گیا۔ چند ماہ بعد ہی میری سگی دادی اور رشتے کی پھوپھی نے میرے والد کی دوسری شادی کروا دی، اس عورت کی آنکھ میں مسعود کھٹکتا تھا، ہمارے پرانے ملازم غازی اور شیر خان واپس کوہاٹ چلے گئے کیونکہ والد کی دوسری بیوی کا رویہ ان کے ساتھ اچھا نہ تھا۔
وہ میری والدہ کو بہت یاد کیا کرتے تھے، چونکہ مسعود کو کھانا پکانا میری والدہ نے سکھا دیا تھا، وہ قورمہ، حلیم، بریانی، آلو گوشت، شلجم گوشت، نہاری، شب دیگ اور دم کا قیمہ بنانا سیکھ گیا تھا، لیکن کھانا والدہ خود پکاتی تھیں، کیونکہ میرے والد کو صرف امی کے ہاتھ کا کھانا پسند تھا، اب اس خاتون نے آرڈر جاری کر دیا کہ کھانا مسعود پکائے گا، وہ مہارانی بن کر بیٹھتی تھیں۔ اس عرصے میں والد صاحب نے مسعود کو ایک جاننے والے کے ورکشاپ میں لگوا دیا جہاں وہ گاڑیوں کی مرمت کا کام سیکھ رہا تھا، اس نے پرائیویٹ میٹرک اور انٹر کیا اور گیراج میں بھی خوب محنت سے کام کیا۔
میرے والد کے کئی دوست یوکے میں تھے، انھوں نے انھیں خط لکھا اور اس میں مسعود کی پوری کہانی لکھ دی، وہاں سے منصور صاحب کا پازیٹو جواب آ گیا، تب والد صاحب نے مسعود کو سارے حالات سے آگاہ کیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مسعود ان کی زندگی میں سیٹ ہو جائے جو مسئلہ اس کے ساتھ تھا، اس میں یہی بہتر تھا کہ وہ پاکستان سے باہر چلا جائے۔ ایک ماہ بعد مسعود برطانیہ چلا گیا، جاتے وقت وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، پھر امی کی قبر پہ گیا اور ایک دن چلا گیا اپنا مستقبل بنانے۔
منصور صاحب اور ان کی بیگم نے اس کا بہت خیال رکھا، چونکہ اسے بہترین کھانا پکانا آتا تھا، اس لیے ایک سردار جی کے ہوٹل میں جاب مل گئی، پھر کچھ عرصے بعد ان سردار جی نے مسعود کو ہوٹل میں رہائش بھی دے دی۔ اس کے ہاتھ کے بنے ہوئے کھانے لوگوں کو بہت پسند آنے لگے، خاص کر آلو گوشت اور چنے کی دال گوشت کے علاوہ اسے یخنی پلاؤ بھی بہترین پکانا آتا تھا۔ سردار جی کی انکم اتنی بڑھی کہ انھوں نے دوسرا ہوٹل بھی کھول لیا، مسعود گوروں کے لیے ہر چیز ہلکی مرچوں کی بناتا تھا، اور دیسی لوگوں کے لیے خوب چٹخارے دار۔ مسعود اکثر والد کو خط لکھتا تھا اور کہتا تھا کہ ان کا فیصلہ بالکل درست تھا، یوکے میں اس کا ٹرانس جینڈر ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ وہ بہت خوش تھا، ایک دن ہمارے گھر ایک صاحبہ آئیں، بھابیاں تو پہچانتی نہیں تھیں لہٰذا انھیں ڈرائنگ روم میں بٹھا کر والد صاحب کو اطلاع دی گئی، وہ مسعود کی والدہ تھیں۔ اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا، بہنوں کی شادیاں ہو چکی تھیں، وہ مسعود سے ملنا چاہتی تھیں اور اپنے کیے پر شرمندہ تھیں۔