Islam Times:
2026-07-24@15:24:56 GMT

جولانی کی بربریت

اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT

جولانی کی بربریت

اسلام ٹائمز: جولانی رژیم سے وابستہ تکفیری عناصر نے عام شہریوں کے خلاف انسان سوز جرائم انجام دینے کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ ھیئت تحریر الشام کے دہشت گردوں نے تمام ساحلی علاقوں میں علوی باشندوں کے قتل عام کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ان شہریوں کی اکثریت نہتی تھی اور قتل ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ مزید برآں، بڑی تعداد میں علوی باشندوں کو گرفتار کر کے لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ شام کے ساحلی علاقوں میں جولانی رژیم کی سرپرستی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قومی صفایا اور نسل کشی ہے۔ ان حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عنقریب شام میں ایک خونریز فرقہ وارانہ خانہ جنگی شروع ہونے والی ہے۔ موجودہ حالات بحران کی پیچیدگی اور شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ فوجی کونسل برائے آزادی شام ملک کے مختلف حصوں کو جولانی رژیم سے آزاد کروانے کے درپے ہے۔ تحریر: حسین مہدی تبار
 
بشار اسد حکومت کی سرنگونی اور خانہ جنگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات کے بعد اس وقت شام میں سیاسی اور فوجی میدان میں اہم تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ "فوجی کونسل برائے آزادی شام" نامی گروہ معرض وجود میں آ چکا ہے جس کی سربراہی شام آرمی کے سابق اعلی سطحی کمانڈر بریگیڈیئر غیاث سلیمان دلا کر رہے ہیں۔ اس گروہ کی تشکیل شام کی تاریخ میں فیصلہ کن موڑ قرار دی جا رہی ہے۔ اس کونسل نے اپنے قیام کا مقصد احمد الشرع یا ابو محمد الجولانی کی سربراہی میں نگران حکومت کی "آمریت" اور "دہشت گردی" کا مقابلہ کرنا بیان کیا ہے اور شام کی سرزمین کو غیر ملکی دہشت گرد عناصر سے پاک کرنے کا عہد کیا ہے۔ فوجی کونسل برائے آزادی شام نے اپنے بیانیے میں وسیع اہداف کا ذکر کیا ہے جن میں "غیر ملکی دہشت گرد گروہوں کے قبضے سے شام کی سرزمین آزاد کروانا" بھی شامل ہے۔
 
اس کونسل نے جن دیگر اہداف کا اعلان کیا ہے ان میں جولانی حکومت کا خاتمہ، آمرانہ اداروں کی تحلیل، شہریوں کے جان و مال کی حفاظت اور جمہوری اصولوں کی بنیاد پر حکومت اداروں کی بحالی شامل ہے۔ اسی طرح فوجی کونسل برای آزادی شام نے جلاوطن افراد کی وطن واپسی اور متحد اور خودمختار شام کی تشکیل پر بھی زور دیا ہے۔ اس کونسل کے قیام کے ساتھ ہی شام کے مختلف شہروں میں جولانی رژیم کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مظاہرین نے ھیئت تحریر الشام کی آمرانہ پالیسیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ احتجاج خاص طور پر ساحلی علاقوں جیسے جبلہ، لاذقیہ، طرطوس اور حلب میں شدت اختیار کر گیا۔ دوسری طرف ھیئت تحریر الشام سے وابستہ تکفیری دہشت گردوں نے فضائی حملوں اور توپخانے کی مدد سے اس عوامی احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی جبکہ جولانی رژیم خاموش تماشائی بنی رہی۔
 
یہ سب کچھ ایسے وقت انجام پایا ہے جب بشار اسد حکومت کی سرنگونی کے بعد پہلے دن سے اسرائیل کی غاصب صیہونی فوج شام کے وسیع علاقوں پر قبضہ جمائے بیٹھی ہے اور جولانی رژیم نے اس کے خلاف حتی بیان دینے سے بھی گریز کیا ہے۔ جولانی رژیم سے وابستہ تکفیری دہشت گرد عناصر اور عوامی مزاحمتی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں ہیں اور موصولہ رپورٹس کے مطابق عوامی مزاحمتی فورسز نے لاذقیہ شہر میں ایک فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ بھی کر لیا ہے جبکہ گھات لگا کر متعدد حملے کیے جن میں بڑی تعداد میں تکفیری دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسی طرح بعض موصولہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لاذقیہ شہر کے کچھ حصوں پر بھی عوامی مزاحمتی فورسز کا کنٹرول برقرار ہو چکا ہے۔ شام کے مغربی علاقوں میں جھڑپیں جاری رہنے سے وہاں انسانی بحران کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
 
شام کے مختلف شہروں میں عوام نے حاکم رژیم کی جانب سے طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف مظاہرے کیے ہیں اور عام شہریوں کے قتل عام میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ لاذقیہ اور طرطوس میں جھڑپوں کی شدت زیادہ ہے اور عوام عام شہریوں کو نشانہ نہ بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف علوی اعلی اسلامی کونسل نے بھی ایک بیانیہ جاری کیا ہے جس میں دہشت گردانہ اقدامات کی فوری روک تھام اور بے گناہ عوام کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب نے جولانی رژیم کی حمایت کی ہے اور اس پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے موثر اقدامات انجام دے۔ اسی طرح ترکی نے بھی عجیب موقف اپناتے ہوئے جولانی رژیم کے خلاف احتجاج کرنے والے عوام پر وحدت کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔
 
جولانی رژیم سے وابستہ تکفیری عناصر نے عام شہریوں کے خلاف انسان سوز جرائم انجام دینے کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ ھیئت تحریر الشام کے دہشت گردوں نے تمام ساحلی علاقوں میں علوی باشندوں کے قتل عام کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ان شہریوں کی اکثریت نہتی تھی اور قتل ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ مزید برآں، بڑی تعداد میں علوی باشندوں کو گرفتار کر کے لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ شام کے ساحلی علاقوں میں جولانی رژیم کی سرپرستی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قومی صفایا اور نسل کشی ہے۔ ان حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عنقریب شام میں ایک خونریز فرقہ وارانہ خانہ جنگی شروع ہونے والی ہے۔ موجودہ حالات بحران کی پیچیدگی اور شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ فوجی کونسل برائے آزادی شام ملک کے مختلف حصوں کو جولانی رژیم سے آزاد کروانے کے درپے ہے۔
 
امریکہ اور فرانس اگرچہ جولانی رژیم پر اقلیتی باشندوں کے خلاف اقدامات نہ دینے کے لیے دباو ڈالتے آئے ہیں لیکن وہ بھی علوی فرقے کی اقتدار میں واپسی سے ہراساں ہیں۔ لہذا عین ممکن ہے کہ وہ جولانی رژیم کو علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے باشندوں کو کچل دینے کے لیے سبز جھنڈی دکھا چکے ہوں۔ یوں شام میں شدید خانہ جنگی کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے۔ ایک طرف جولانی رژیم اس پوزیشن میں نہیں کہ علوی فرقے کو مکمل طور پر کچل دے اور دوسری طرف عوام کی اکثریت جولانی رژیم سے تنگ آ چکا ہے اور وہ مزاحمتی گروہوں کی حمایت کرنے میں مصروف ہے۔ لہذا یوں دکھائی دیتا ہے کہ نہ تو جولانی رژیم مخالفین کو پوری طرح ختم کر پائے گی اور نہ ہی مخالفین جولانی رژیم کے خاتمے میں کامیاب ہو پائیں گے۔ اس طرح ایک طویل خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہونے کا احتمال زیادہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فوجی کونسل برائے آزادی شام ھیئت تحریر الشام ساحلی علاقوں میں میں علوی باشندوں عام شہریوں میں جولانی خانہ جنگی بڑی تعداد شہریوں کے کے مختلف شروع ہو کے خلاف رژیم کی گیا ہے شام کے شام کی کیا ہے ہے اور

پڑھیں:

کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ جبکہ بھارت کا امن کا درس دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار سے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔

پاکستانی قونصلر نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد اقدامات خود بھارت سے منسوب ہیں۔

صائمہ سلیم نےسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے کسی صورت جنگ یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری