کراچی، موٹرسائیکل چوری کے مقدمے میں گرفتار ملزم کی دوران حراست ہلاکت پر پولیس کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 13th, March 2025 GMT
کراچی کے علاقے لیاری کلاکوٹ کے تھانے میں موٹرسائیکل چوری کے الزام میں گرفتار ملزم کی مبینہ ہلاکت کے حوالے سے پولیس کا مؤقف سامنے آگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کلاکوٹ پولیس کے ہاتھوں موٹر سائیکل چوری کے الزام میں گرفتار ملزم کی ہلاکت کے حوالے سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سٹی عارف عزیز کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سکندر کے لاک اپ میں ہلاک ہونے کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار ملزم نشے کا عادی تھا جو کہ اسپتال میں دوران علاج ہلاک ہوا ہے ، ملزم 12 مارچ کو موٹر سائیکل چوری کے الزام میں گرفتار ہوا تھا جس کا مقدمہ کلاکوٹ تھانے میں درج ہے، ملزم سے چوری شدہ موٹر سائیکل اور اس کے پارٹس بھی برآمد ہوئے تھے جبکہ واردات کی سی سی ٹی وی بھی موجود ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ملزم کو سانس لینے میں دقت ہوئی تھی جسے فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ آکسیجن کی کمی کے باعث ہلاک ہوگیا جبکہ ایم ایل او کی رپورٹ کے مطابق ملزم کی ہلاکت دوران علاج ہوئی ہے۔
عارف عزیز کے مطابق گرفتار ملزم عادی جرائم پیشہ ہے اور وہ اس سے قبل بھی متعدد مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جا چکا تاہم وجہ موت کا تعین کرنے کے لیے ملزم کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے جس کی رپورٹ آنے پر صورتحال واضح ہوجائیگی۔
ملزم کی ہلاکت کے حوالے سے علاقہ مکینوں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج سے متعلق ایس ایس پی سٹی کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو ہلاک ملزم کے حوالے سے پولیس افسران نے تمام آگاہی فراہم کی تھی جس کے بعد وہ منتشر ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گرفتار ملزم کے حوالے سے میں گرفتار ملزم کی چوری کے
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔