بنوں اور دارالعلوم حقانیہ دھماکوں کے خودکش حملہ آوروں کی شناخت ہو گئی ہے، آئی جی کے پی
اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT
آئی جی کے پی نے بتایا کہ بنوں واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ٹریکنگ بھی کر لی ہے، واقعہ میں غیر ملکی اسلحہ بھی استعمال کیا گیا ہے، اسلحہ کی ٹریکنگ کر رہے ہیں کہ کس ملک سے اور کیسے آیا؟ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ دارالعلوم حقانیہ اور بنوں خودکش حملہ آوروں کی شناخت ہو گئی ہے۔ پشاور میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ذوالفقار حمید نے کہا کہ نوشہرہ میں دارالعلوم حقانیہ اور بنوں دھماکوں کی تحقیقات جاری ہیں، دونوں دھماکوں کی سی سی ٹی وی ویڈیوز حاصل کرلی ہیں جب کہ خودکش حملہ آوروں کی اعضاء سے شناخت کر لی گئی ہے۔ آئی جی کے پی نے بتایا کہ بنوں واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ٹریکنگ بھی کر لی ہے، واقعہ میں غیر ملکی اسلحہ بھی استعمال کیا گیا ہے، اسلحہ کی ٹریکنگ کر رہے ہیں کہ کس ملک سے اور کیسے آیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ کرم میں حالات خراب کرنے والے 100 سے زیادہ ملزمان گرفتارہوئے، کرم واقعات میں اب دہشتگردی کا عنصر بھی شروع ہوا ہے، کرم کیلئے الگ حکمت عملی بنا لی ہے، امید ہے اب کوئی واقعہ نہیں ہو گا۔ آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے میں کرم میں پائیدار امن قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے، سیف سٹی پراجیکٹ کی منظوری دے دی گئی ہے، چند ماہ میں سیف سٹی پراجیکٹ مکمل لیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹانک ،چیک پوسٹ پر حملہ ، 12 فوجیوں سمیت 15 شہید،12 خوارجی ہلاک
ضلع ٹانک میں قائم مشترکہ پولیس چیک پوسٹ پر 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب دہشت گردوں کے حملے کو سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کی سکیورٹی توڑنے کی کوشش کی، تاہم فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں 12 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملے کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے غیر معمولی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہونے والے دہشت گردوں کا تعاقب کیا اور انہیں ہلاک کر دیا۔
بیان کے مطابق حملے میں ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے بارود سے بھری ایک گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا اور چیک پوسٹ کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس حملے میں 15 اہلکار شہید ہوئے، جن میں 12 فوجی جوان، 2 پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک اہلکار شامل ہیں، جنہوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ وہاں موجود دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور وطن کے دفاع، قومی سلامتی کے تحفظ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کا عزم غیر متزلزل ہے۔