4 مقدمات میں درخواستِ ضمانت، ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل کو دلائل دینے کا آخری موقع
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد---فائل فوٹو
لاہور میں انسدادِ دہشت گردی (اے ٹی سی) کی عدالت نے سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کی 4 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر اُن کے وکیل کو دلائل دینے کا آخری موقع دے دیا۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج منظر علی گل نے عسکری ٹاور حملے اور پولیس اسٹیشن جلانے سمیت 4 مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی، جس کے دوران ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل پیش نہ ہوئے۔
معاون وکیل نے دلائل کے لیے وقت مانگا اور بتایا کہ شریک ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔
عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کے جسمانی ریمانڈ کیلئے پولیس کی استدعا مسترد کردی۔
انہوں نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے تک کارروائی مؤخر کر دی جائے۔
عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل کو دلائل دینے کا آخری موقع دیتے ہوئے سماعت 17 مارچ تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر یاسمین راشد کے کے وکیل
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔
مزید پڑھیں۔سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے