روزے میں بیوی کو شونا، بے بی کہہ دیا اور میزبان دلہن بن کر آگئیں۔۔ رمضان شو میں جعلی کالز اور واحیات حرکتوں نے صارفین کو آگ بگولہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
کراچی (شوبز ڈیسک)رمضان کے بابرکت مہینے میں ہر چینل کی جانب سے خصوصی ٹرانسمیشنز جاری ہیں، جہاں معروف شخصیات ناظرین کو روحانی و مذہبی رہنمائی فراہم کر رہی ہیں۔ شانِ رمضان کی روایتی ٹیم سے لے کر جاویدیہ سعود، رابعہ انعم، احسن خان اور دانش تیمور جیسے بڑے نام اس سیزن کی ٹرانسمیشنز کو کامیابی سے سنبھال رہے ہیں۔
تاہم، اس بار ان شوز میں کچھ نیا اور حیران کن دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایسے کالرز جو دین اور روحانیت سے زیادہ سنسنی اور حیرت پھیلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ صارفین کے مطابق یہ نیا ٹرینڈ رمضان شوز میں جعلی کالز کا ہے، جن کا مقصد صرف توجہ حاصل کرنا اور ریٹنگز بڑھانا معلوم ہوتا ہے۔
عجیب و غریب کالز جو سب کو حیران کر گئیں!
A post shared by Green TV Entertainment (@greenentertainment.
تقریباً ہر چینل کے اسلامی سیگمنٹ میں ناظرین کو علماء کرام سے سوالات کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، لیکن اس بار یہ سلسلہ کچھ زیادہ ہی عجیب ہو گیا ہے۔
A post shared by Real Fiza Ali (@fiza_aali)
گرین ٹی وی کے شو میں ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا وہ اپنی بیوی کو پیار بھرے ناموں سے بلا سکتا ہے؟ حتیٰ کہ اس نے پوچھا کہ کیا وہ اپنی بیوی کو “بے بی” کہہ سکتا ہے!
ایک خاتون نے حیران کن سوال کر ڈالا، “اگر مرد چار شادی کر سکتا ہے، تو عورت دو شادیاں کیوں نہیں کر سکتی؟”
ایک اور کالر، جو پہلے ہی چار بیویوں کا شوہر تھا، نے پوچھا کہ پانچویں شادی کے لیے کوئی خاص وظیفہ ہے؟
جاویریہ سعود کے شو میں ایک کال ایسی آئی جس نے انٹرنیٹ پر ہلچل مچا دی۔ اسی طرح، فضاا علی کے شو میں بلیک میلنگ سے متعلق ایک بے تکا واقعہ سنایا گیا۔
عوام کا ردعمل – “کیا یہ سب پہلے سے طے شدہ ہے؟”
یہ کالز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہے اور چینلز صرف ریٹنگز اور وائرل مومینٹس بنانے کے چکر میں رمضان کی روح کو نظرانداز کر رہے ہیں۔ کوئی میزبان کے انداز پر تنقید کررہا ہے تو کوئی کالرز کے سوالات پر۔
رمضان ٹرانسمیشنز کو دین اور نیکی کی تبلیغ کے لیے استعمال کرنا چاہیے، لیکن یہ غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی سوالات نہ صرف ناظرین کو پریشان کر رہے ہیں بلکہ ان ٹرانسمیشنز کے اصل مقصد پر بھی سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، والد کی جگہ شادہ شدہ بیٹی سرکاری نوکری کے لیے اہل قرار
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: رہے ہیں
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :