کراچی میں مقبول فٹبال کی قسم فٹ سل کیسے کھیلی جاتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
فٹبال دنیا میں سب سے زیادہ کھیلا اور دیکھا جانے والا مقبول ترین کھیل ہے۔ پاکستان میں اس کی بڑی ٹیم تو نہیں ہے لیکن فٹبال کے شائقین کے ساتھ ساتھ یہاں کھلاڑی بھی بہت پائے جاتے ہیں۔
یہ کھیل کراچی کے علاقوں لیاری اور بلدیہ ٹاؤن میں بہت مقبول ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رمضان میں جہاں کراچی میں روڈ سائیڈ کرکٹ کھیلی جاتی ہے وہیں لیاری اور بلدیہ ٹاؤن میں فٹبال کی ایک قسم فٹ سل کھیلی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا لیاری کے نوجوان پاکستان کو فیفا ورلڈ کپ جتوا سکتے ہیں؟
فٹ سل فٹبال جیسا ہی کھیل ہے لیکن اسے آپ محدود جگہ پر کھیل سکتے ہیں۔ اس کا گول پوسٹ عام گول پوسٹ سے چھوٹا ہوتا ہے جبکہ اس میں ایک ٹیم میں 11 کی بجائے 4 کھلاڑی ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیے: فٹبال ٹیم بنانے کا مشن، وزیراعلیٰ سندھ نے ارجنٹینا فٹبال ٹیم کو لیاری آنے کی دعوت دے دی
کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں جاری فٹ سل کے ٹورنامنٹ کی اگر بات کی جائے تو یہ 25 ویں رمضان تک جاری رہے گا۔ اس میں 30 ٹیمیں شریک ہیں اور تراویح کے بعد سعید آباد کی ایک سڑک کو بند کرکے یہ کھیل شروع کردیا جاتا ہے جس میں 15،15 منٹوں کے 2 ہاف ہوتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
فٹ سل فٹبال جیسا کھیل فٹ سل لیاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔