پی ایس ایل؛ کیا صائم کی جگہ زلمی نے اس اوپنر کو اسکواڈ کا حصہ بنایا؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آغاز سے قبل ہی پشاور زلمی کے جارح مزاج اوپنر صائم ایوب کی لیگ میں شرکت کے حوالے سے سوالات اٹھ گئے۔
گزشتہ روز پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی معروف فرنچائز پشاور زلمی نے اوپنر صائم ایوب کے اسکواڈ میں ہوتے ہوئے بگ بیش لیگ میں شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کرنیوالے مچل اوون کو اسکواڈ کا حصہ بنایا اور انہیں رزیرو کھلاڑی میں رکھا گیا ہے۔
مچل اوون کی سلیکشن نے مداحوں کو تجسس میں ڈال دیا ہے کہ پشاور زلمی اوپنر صائم ایوب اوپننگ کیلئے بابراعظم کے ہمراہ دستیاب ہوں گے یا نہیں۔
مزید پڑھیں: صائم ایوب کی فٹنس کے حوالے سے فیصلہ کب ہوگا؟
گزشتہ ایڈیشن میں بابراعظم اور صائم ایوب نے کئی مواقعوں پر شاندار شراکت داری قائم کرکے میچز جتوانے میں اہم کردار کیا تھا جبکہ صائم کئی مرحلوں پر بالنگ کرتے بھی دیکھائی دیے تھے۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل چھوڑنے پر کوربن بوش کو پی سی بی کا قانونی نوٹس
خیال رہے کہ دورہ جنوبی افریقا کے دوران اوپنر صائم ایوب انجری کا شکار ہوکر سہ ملکی سیریز، آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی سے باہر ہوگئے تھے۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل؛ 2 نئی ٹیموں کو شامل کرنے کا فیصلہ، نام کیا ہوں گے؟
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں صائم ایوب کی شرکت تاحال غیر یقینی ہے تاہم وہ ٹرینر حنیف ملک کی نگرانی میں اپنی فٹنس پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل کی 2 ٹیموں کے نئے خریدار مل گئے، مگر کہاں سے؟
دوسری جانب بی بی ایل کے 2024-25 ایڈیشن میں مچل اوون نے 45.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اوپنر صائم ایوب مزید پڑھیں پی ایس ایل
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔