دہشتگرد دہشتگرد ہوتا ہے اسکو کسی صورت معافی نہیں مل سکتی، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
لاہور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو رہنا چاہیے لیکن اس کا دہشتگرد ونگ نہیں رہنا چاہیے، جو پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں وہ قومی سلامتی کی کمیٹی میں ہیں، جو سلامتی نہیں چاہتے وہ باہر ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی وزیر اطلاعات عظمی زاہد بخاری نے لاہور پریس کلب کا دورہ کیا۔ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سیکرٹری زاہد عابد، جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ، فنانس سیکرٹری سالک نواز، اراکین گورننگ باڈی مدثر حسین، سید بدر سعید، رانا شہزاد احمد، محبوب احمد چوہدری اور الفت حسین مغل نے معزز مہمان کو کلب آمد پر خوش آمدید کہا۔ عظمی زاہد بخاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جب میں وزیر نہیں تھی یہ پریس کلب تب بھی میرا گھر تھا، اب بھی میرا گھر ہے، ارشد انصاری کو ہر وقت اپنے صحافیوں کی فکر رہتی ہے، تنخواہوں کا مسئلہ چل رہا ہے اس کو حل کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا پارلیمنٹ میں قومی سلامتی کی کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے، جبکہ ایک تحریک بائیکاٹ ہے، جس کا کام ہی بائیکاٹ کرنا ہے، جب وہ وزیراعظم تھے کووڈ آیا تکلیف دہ دن تھے، لیکن وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی وہ شخص سب کیساتھ نہیں بیٹھا تھا، انڈیا نے حملہ کیا سب سیاسی پارٹیاں اکھٹی ہوئیں موصوف تب بھی نہیں بیٹھے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی اکڑ ہے شاید وہ خود کو پاکستان سے اوپر سمجھتے ہیں، میں نے کل ہی کہا تھا یہ نہیں بیٹھے گے، ان کا ایجنڈا ملک میں عدم استحکام لانا، پاکستان کیخلاف کام کرنیوالی فورسز کو سپورٹ کرنا ہے، بانی پی ٹی آئی جب اپوزیشن میں تھے تب بھی کہتے تھے، طالبان ہمارے بھائی ہیں، اے پی ایس کا جب تکلیف دہ واقعہ ہوا جس سے دل دہل جاتا ہے، ان کو کمیٹی میں بیٹھنا پڑا اور نیشنل ایکشن پلان بنا، آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے ذریعے دہشتگردی کو ختم کر دیا گیا، اپنے دور حکومت میں انھوں نے ان کو لا کر بسایا، جو لوگ پکڑے گئے تھے ان کو صدارتی معافی دلوائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ زمان پارک کے باہر وہ بانی پی ٹی آئی کی سکیورٹی کرتے پوری دنیا نے دیکھا، ان کو طالبان خان کہا جاتا رہا، آج دہشت گردی سر اٹھا رہی ہے بلکہ سر اٹھا چکی ہے، ہمارے سکیورٹی جوان شہادت کے جذبے سے یونیفارم پہنتے ہیں، ان کو کمزور نہیں کیا جا سکتا، باہر بیٹھے بانی پی ٹی آئی کے بھگوڑے یہاں سے چندہ لے کر جاتے ہیں، انٹرنیشنل فرمز کو لاکھوں ڈالرز کون ادا کرتا ہے، یہ بڑا سوال ہے، تمام سیاسی پارٹیاں ہماری عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے سر جوڑ کر بیٹھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک تحریک بائیکاٹ ہے، ان کو بانی پی ٹی آئی کی سیاست سب سے اوپر لگتی ہے، دوسری وجہ لگتی ہے ان کو پاکستان کے جان ومال کی فکر نہیں، کے پی کے کو دہشتگردی کو کنٹرول کرنے کیلئے چھ سو ارب روپے دیئے گئے، وہ پیسے کہاں گئے، نہیں پتہ، بانی پی ٹی آئی کو مٹن ملا ہے یا نہیں یہ مسئلہ ہے، تھانے پر حملہ ہوا یہ مسئلہ نہیں، میاں نواز شریف ہر طرح کا رول ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ عظمی بخاری نے کہا 9 مئی پر کہتے ہیں شہدا کی توہین نہیں کی یہ روز کرتے ہیں، جعفر ایکسپریس پر جو سوشل میڈیا کمپین کی گئی سب کے سامنے ہے، محرومیوں کے نام پر کب تک ملک میں دہشتگردی ہوتی رہے گی، دہشت گرد دہشت گرد ہوتا ہے اس کو کسی صورت معافی نہیں مل سکتی، تحریک انصاف کو رہنا چاہیے لیکن اس کا دہشتگرد ونگ نہیں رہنا چاہیے، جو پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں وہ قومی سلامتی کی کمیٹی میں ہیں، جو سلامتی نہیں چاہتے وہ باہر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی انہوں نے کہا رہنا چاہیے پریس کلب
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎