اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ ایران کی طرف سے پاکستان کی سرحد تک گیس پائپ لائن پہنچانے کا بیان درست نہیں، پائپ لائن پاکستان کی سرحد تک نہیں آئی۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وقفہ سوالات کا سیشن ہوا جس میں مختلف وزارت نے سوالات کے تحریری جوابات پیش کیے۔ وقاقی وزیر تجارت نے پاک ایران گیس پائپ لائن کے سلسلے میں اہم پالیسی بیان دیا اور کہا کہ ایران کی طرف سے پاکستان کی سرحد تک گیس پائپ لائن پہنچانے کا بیان درست نہیں، ایران نے پاکستان کی طرف گیس پائپ لائن اپنے ایک خاص علاقے تک ضروربچھائی ہے لیکن پائپ لائن پاکستان کی سرحد تک نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ ایران پر عالمی پابندیوں سے سب آگاہ ہیں، امریکا یک طرفہ طور پر پابندیاں لگاتا ہے، یہ پابندیاں عالمی قوانین کے مطابق نہیں لگائی جاتیں مگر ہماری عالمی تجارت میں 65 فیصد صرف امریکا و یورپ کے ساتھ ہے، ہمیں اپنی تجارت کو عالمی تجارت کے تناسب سے دیکھنا ہوتا ہے۔

وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ نے کہا کہ امریکی امداد کی معطلی سے پاکستان کی معاشی و سماجی ترقی پر کافی اثرات مرتب ہونگے، فنڈز بند ہونے سے اہم شعبوں میں ہونے والی پیش رفت میں خلل کا خطرہ ہے، ایس ڈی جیز کے اہداف کے حصول میں تاخیر ہو سکتی ہے، امریکا نے یہ امداد صرف پاکستان کے لیے بند نہیں کی، وہ اپنی غیر ملکی امداد کی پالیسی کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے،امریکی حکام سے بات چیت جاری ہے تاکہ 20 اپریل 2025 تک فنڈز کی بحالی ممکن ہوسکے۔ وزیر تجارت جام کمال خان نے موجودہ حکومت کے پہلے سال سے متعلق درآمدی چینی کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردیں جس میں بھارت سے 50 ہزار ٹن چینی درآمد کرنے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

وزیر تجارت نے بتایا کہ مارچ 2024 سے جنوری 2025 تک 3 ہزار 140 میٹرک ٹن چینی درآمد کی گئی، چینی کی درآمد پر 3 ملین ڈالرز سے زائد رقم خرچ ہوئی، چینی ملائشیا جرمنی، تھائی لینڈ، یو اے ای، امریکا، برطانیہ، ڈنمارک، چین فرانس، سوئٹزرلینڈ اور جنوبی کوریا سے درآمد کی گئی جب کہ پاکستان نے بھارت سے بھی 50 ہزار ٹن چینی درآمد کی۔ وزارت تجارت نے گزشتہ 5 سال کے تجارتی خسارے کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں جس میں بتایا گیا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران 1سو 54 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا، 1سو 36 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں، 2 سو 91 ارب ڈالر کی درآمدات ہوئیں، درآمدات میں اضافے کی بنیادی وجہ معاشی نموع ہے۔وزارت تجارت کی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2020 میں تجارتی خسارہ 23 ارب 16 کروڑ ڈالر ہوا، مالی سال 2021 میں تجارتی خسارہ 31 ارب 8 کروڑ ڈالر ہوا، مالی سال 2022 میں تجارتی خسارہ 48 ارب 35 کروڑ ڈالر ہوا، مالی سال 2023 میں تجارتی خسارہ 27 ارب 47 کروڑ ڈالر ہوا، گزشتہ مالی سال 2024 میں تجارتی خسارہ 24 ارب 11 کروڑ ڈالر ہوا۔
بتایا گیا کہ مالی سال 2025 میں سولر پینل، ٹرانسفارمرز اور بجلی کے ترسیلی آلات میں 60 فیصد اضافہ ہوا، بجلی کے ترسیلی آلات کی درآمدات 31 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تک جا پہنچی، صنعتی مشینری کے آلات میں 20 فیصد، ٹیکسٹائل مشینری میں 40 فیصد، آٹو پارٹس کی درآمدات میں 58 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح گزشتہ پانچ سال کے دوران غیر ملکی قرضوں اور اور واجبات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں جو کہ وزارت خزانہ کی جانب سے پیش کی گئیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ جون 2023 تک پاکستان کے غیر ملکی قرضوں اور واجبات کی کل رقم 126141 ملین ڈالرز تھی، یہ غیر ملکی قرضہ جی ڈی پی کا 43 اعشاریہ صفر تین فیصد ہے، مالی سال 2024 میں پاکستان نے 11 ہزار 475 ملین ڈالرز غیر ملکی قرضہ واپس کیا۔
مزیدپڑھیں:سیما حیدر اور سچن مینا کے ہاں بیٹی کی پیدائش

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان کی سرحد تک میں تجارتی خسارہ کروڑ ڈالر ہوا گیس پائپ لائن قومی اسمبلی غیر ملکی کی درآمد مالی سال

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار