بنگلہ دیش: روہنگیا باغی گروپ کے رہنما کو گرفتار کر لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 19 مارچ 2025ء) بنگلہ دیش میں حکام نے منگل کے روز بتایا کہ پولیس نے ایک روہنگیا باغی گروپ کے رہنما کو گرفتار کر لیا ہے، جو مبینہ طور پر میانمار کی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں ملوث تھے۔
پولیس افسر پریتوش کمار مجمدار نے میڈیا کو بتایا کہ اراکان روہنگیا سالویشن آرمی (اے آر ایس اے) کے 48 سالہ سربراہ عطاء اللہ ابو عمار جنونی کو دارالحکومت ڈھاکہ کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق ان پر قتل اور تخریب کاری کی کارروائیوں کا شبہ ہے۔بھارت میں روہنگیا پناہ گزین بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان
بنگلہ دیش کی ایلیٹ ریپڈ ایکشن بٹالین نے منگل کے روز عطاء اللہ ابو عمار جنونی اور ان کے پانچ دیگر ساتھیوں کو گرفتار کیا۔
(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ ان کے مزید چار دیگر ساتھیوں کو وسطی ضلع میمن سنگھ سے گرفتار کیا گیا ہے۔
انڈونیشی ساحل پر پھنسے ہوئے درجنوں روہنگیا پناہ گزینوں کی روداد
پولیس نے گرفتاری سے قبل انہیں پوچھ گچھ کے لیے اپنی تحویل میں لیا تھا۔
پولیس انسپکٹر قیوم خان نے بتایا کہ حراست میں لینے کے بعد ملزمان کو ایک ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں قتل، تخریب کاری اور بنگلہ دیش میں غیر قانونی داخلے کے الزامات کے سلسلے میں تفتیش کے لیے 10 روزہ ریمانڈ کی منظوری دی۔
اے آر ایس اے کی 'مجرمانہ' سرگرمیاںاراکان روہنگیا سالویشن آرمی (اے آر ایس اے) کو میانمار میں بے وطن مسلم اقلیتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف ایک باغی گروپ کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی ایک رپورٹ کے مطابق ابو عمار جنونی نے سن 2016 سے میانمار کی شمالی ریاست رکھائن میں باغی گروپ کی سربراہی کا آغاز کیا تھا۔
جب جنونی 2017 میں اے آر ایس اے کی قیادت کر رہے تھے، تو اسی دوران اس گروپ پر رکھائن میں سکیورٹی چوکیوں پر ہلاکت خیز حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
پچھلے چند ماہ میں ہزاروں روہنگیا میانمار سے بنگلہ دیش پہنچ گئے
خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی سن 2017 کے ان حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ وہ سب سے پہلے آن لائن پوسٹ کی جانے والی ایسی ویڈیوز کے ذریعے عوام کے سامنے ظاہر ہوئے، جس میں انہیں نقاب پوش بندوق برداروں کے ساتھ روہنگیا مسلمانوں کو "غیر انسانی جبر" سے آزاد کرانے کا عہد کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
میانمار: جنگی جرائم میں 'کافی اضافہ' ہوا ہے، اقوام متحدہ
سن 2017 کے حملوں کے بعد ہی میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ فوجی کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا، جس کی وجہ سے تقریبا ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔
ابو عمار جنونی پر بنگلہ دیش کی ملٹری انٹیلیجنس کے ایک افسر کے قتل میں بھی ملوث ہونے کا الزام ہے۔
میانمار:ڈرون حملے میں درجنوں روہنگیا مسلمانوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات
اے آر ایس اے پر سرحد پار منشیات کی اسمگلنگ، اغوا، بھتہ خوری اور بنگلہ دیشی مہاجر کیمپوں میں تشدد جیسی کارروائیاں کرنے کا بھی الزام ہے۔
تدوین جاوید اختر
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے روہنگیا مسلمانوں اے آر ایس اے بنگلہ دیش باغی گروپ بتایا کہ کیا گیا
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔