تاجر برادری کی ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر سے ملاقات، کامیابی پر مبارکباد پیش کی
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
تاجر رہنما خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا کہ مظلوم طبقہ کو جلد انصاف کی فراہمی کے لیے وکلا برادری کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، جو صرف مظلوم طبقہ کے لیے ہی نہیں بلکہ ازاد عدلیہ اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے بھی اپنی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر میاں اظہر خان مغل نے کہا ہے کہ معاشرے میں پسے مظلوم طبقات کو جلد انصاف کی فراہمی کے لیے تجارت سے وابستہ کاروباری طبقہ، تاجر برادری کا کردار لائق تحسین ہے، جو وکلا برادری کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا کہ آج بھی پوری قوم کی نگاہیں وکلا اور عدلیہ پر ہیں کہ ظلم کا شکار مظلوم عوام کو جلد انصاف کی فراہمی ممکن ہو، تاجر برادری نے ہمیشہ حق کی خاطر آواز اُٹھائی اور عدلیہ بحالی تحریک میں بھی بھرپور ساتھ دیا، تاجر برادری آج بھی وکلا کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی اور دیگر تاجر رہنماوں جنوبی پنجاب کے چیئرمین جاوید اختر خان، ملتان کے صدر خالد محمود قریشی، ملتان کے جنرل سیکرٹری مرزا نعیم بیگ، ضلع ملتان کے نائب صدر شیخ فصیل محمود کو اپنے دفتر میں مبارکباد کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر تاجر رہنماوں نے محمد اظہر خان مغل کو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی، پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا کہ مظلوم طبقہ کو جلد انصاف کی فراہمی کے لیے وکلا برادری کی کاوشیں لائق تحسین ہیں، جو صرف مظلوم طبقہ کے لیے ہی نہیں بلکہ ازاد عدلیہ اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے بھی اپنی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کو جلد انصاف کی فراہمی خواجہ سلیمان صدیقی تاجر برادری مظلوم طبقہ ملتان کے نے کہا کے لیے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔