Daily Ausaf:
2026-07-24@07:50:11 GMT

واٹس ایپ کا میسجز کے حوالے سے اہم تبدیلی کااعلان

اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT

میٹا کے زیر ملکیت میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ نے اسپام میسجز کو روکنے کے لیے اہم اعلان کیا ہے۔

واٹس ایپ کے مطابق انفرادی صارفین اور کاروباری اداروں کی جانب سے کیے جانے والے براڈ کاسٹ میسجز کی تعداد کو محدود کیا جارہا ہے تاکہ ایپ میں اسپام پیغامات کی روک تھام کی جاسکے۔آئندہ چند ہفتوں کے دوران کمپنی کی جانب سے انفرادی صارفین کے لیے براڈ کاسٹ میسجز کی تعداد کو محدود کرنے کی آزمائش کی جائے گی۔

واٹس ایپ کی جانب سے ایسے براڈ کاسٹ میسجز کی ماہانہ تعداد کا تعین کیا جائے گا۔مثال کے طور پر میٹا کی جانب سے ہر ماہ 30 براڈ کاسٹ میسجز کی اجازت دی جائے گی۔میٹا کے مطابق صارفین اگر مزید میسجز بہت زیادہ افراد کو بھیجنا چاہتے ہیں تو وہ اسٹیٹس اپ ڈیٹس یا چینلز کو استعمال کرسکتے ہیں۔کمپنی کی جانب سے اسی طرح کے اقدامات بزنس اکاؤنٹس کے لیے بھی کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ابھی واٹس ایپ بزنس اکاؤنٹس لامحدود تعداد میں براڈ کاسٹ میسجز مفت بھج سکتے ہیں مگر کمپنی کی جانب سے مستقبل میں چند اضافی ٹولز کے ساتھ پیڈ ورژن متعارف کرایا جاسکتا ہے۔آنے والے مہینوں میں میٹا کی جانب سے پراڈکٹس اپ ڈیٹس کے لیے نئے کسٹمائز براڈ کاسٹ میسجز کی آزمائش کی جائے گی جبکہ بزنس اکاؤنٹس استعمال کرنے والے صارفین میسجز کو شیڈول بھی کرسکیں گے۔

آزمائشی دورانیے کے دوران کاروباری ادارے 250 میسجز مفت سینڈ کرسکیں گے اور اس کے بعد انہیں اضافی میسجز کے لیے فیس ادا کرنا ہوگی۔گزشتہ چند برسوں کے دوران واٹس ایپ بزنس ایپ میٹا کے لیے ایک اثاثہ بن چکی ہے اور آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔براڈ کاسٹ میسجز میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ کمپنی کی جانب سے واٹس ایپ بزنس ایپ کے لیے لوگو کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: براڈ کاسٹ میسجز کی کمپنی کی جانب سے واٹس ایپ کے لیے

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا