وہ دن دور نہیں جب معیشت سے کاسمیٹکس کا لیپ اترجائے گا ‘ مسرت جمشید چیمہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 مارچ2025ء)پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ فارم47مارکہ حکومت ہر شعبے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے ، وہ دن دور نہیں جب معیشت سے کاسمیٹکس کا لیپ اترجائے گا ، حکمران دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کے دعویدار ہیں جبکہ عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں ۔
(جاری ہے)
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وفاق اور پنجاب میں بیڈ گورننس کے ریکارڈ توڑے جارہے ہیں ، حکمرانوں کی ساری کارکردگی صرف اشتہارات تک محدود ہے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔
اصل میں معیشت نہیں بلکہ غربت اور افلاس بلندیوں کو چھو رہی ہے ، مہنگائی کم ہونے کے صرف دعوے ہیں ، عوام گھی ،چینی اور آٹا خریدنے سے قاصر ہیں ۔ پنجاب حکومت رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف دینے میں بری طرح ناکام رہی ہے ، امدادی رقم کے چیک کن لوگوں کو ملے ہیں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ انہوںنے کہا کہ ان شا اللہ وہ وقت آئے گا جب ملک میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہو گی اورنظام میں پیدا ہونے والے بیگاڑ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا ۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔