معروف یو ایف سی فائٹر کا آئرلینڈ کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
معروف یو ایف سی فائٹر کانر مک گریگور نے آئرلینڈ کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کردیا۔
اپنے سوشل میڈیا ہینڈل ایکس پر معروف یو ایف سی فائٹر کانر مک گریگور نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد آئرلینڈ کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔
انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں مک گریگور نے لکھا کہ یورپی مائیگریشن پیکٹ، سرحدی سیکیورٹی اور تارکین وطن کے خلاف مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا۔
مزید پڑھیں: ڈیوڈ وارنر کی پہلی بھارتی فلم کب ریلیز ہوگی، تاریخ سامنے آگئی
میک گریگور نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ وہ اگلے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے تاکہ یورپی مائیگریشن پیکٹ کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگلے صدارتی انتخابات 11 نومبر 2025 تک ہونے چاہئیں، کون ہے جو حکومت کے سامنے کھڑا ہوگا اور اس بل کے خلاف آواز اٹھائے گا؟ کوئی بھی دوسرا صدارتی امیدوار مزاحمت نہیں کرے گا لیکن میں کروں گا۔
مزید پڑھیں: گستاخانہ خاکوں پر عالمی شہرت یافتہ فائٹر خبیب کا فرانسیسی صدر کو کرارا جواب
دوسری جانب آئرلینڈ کو 12 جون 2026 تک یورپی مائیگریشن پیکٹ کو مکمل طور پر نافذ کرنا ہوگا، اس کیلئے اب سے 12 جون 2026 کے درمیان، آئرش پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو کئی قوانین منظور کرنے ہوں گے، جن پر صدر کی دستخطی بھی درکار ہوں گی۔
میک گریگور نے مزید کہا کہ میں بطور صدر کی حیثیت سے، میں اس بل کو ریفرنڈم کیلئے پیش کروں گا اگرچہ میں اس پیکٹ کی سخت مخالفت کرتا ہوں لیکن یہ فیصلہ کرنا نہ تو میرا حق ہے اور نہ ہی حکومت کا، یہ آئرلینڈ کے عوام کا فیصلہ ہونا چاہیے! یہی حقیقی جمہوریت ہے!۔
مزید پڑھیں: آسٹریلوی کرکٹر نے بالی ووڈ کے بعد سیاست میں انٹری دینے کا اعلان کردیا
انہوں نے کہا کہ میں یہ جاننے کیلئے بھی بےتاب ہوں کہ ہماری حکومت کے عہدیداروں نے اس پیکٹ کو اتنی شدت سے کیوں قبول کیا، میں ان کی بحث ہونی چاہیے تھی اور پھر ووٹنگ کے ذریعے فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔
اس سے قبل یو ایف سی فائٹر نے کبھی بھی کوئی سیاسی عہدہ نہیں سنبھالا لیکن انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہوتی نظر آ رہی ہے، جنہوں نے گزشتہ ہفتے انہیں وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صدارتی انتخابات میں حصہ یو ایف سی فائٹر گریگور نے کا اعلان
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔